1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین کا بحران: ’عرب اخوت‘ محض ایک کھوکھلا نعرہ

ہر روز ہزاروں نئے شامی مہاجرین کی آمد کے پیش نظر یہ بات طے ہے کہ جرمنی میں ان مہاجرین کو دو سو نئی مساجد کی نہیں بلکہ اپنے ہم عقیدہ خلیج کے امیر عربوں کی طرف سے مدد اور اخوت کے عملی اظہار کی ضرورت ہے۔ ڈی ڈبلیو کا تبصرہ:

عرب لیگ کی خصوصی سربراہی کانفرنس، اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ ملاقاتوں میں آنسو بہائے جانا، پھر مختلف اپوزیشن گروپوں کو ہتھیاروں کی فراہمی، بہت جذباتی میڈیا رپورٹیں اور خلیج کے خطے سے شروع ہونے والی وہ میڈیا مہم جس میں شامی صدر بشار الاسد کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ دکھایا جاتا ہے کہ شامی عوام کتنے تکلیف دہ حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں، یہ سب کچھ شامی عوام کی مدد کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا حقیقت واقعی یہی ہے؟

DW.COM

ڈوئچے ویلے کے عربی زبان کے شعبے سے منسلک ناصر شروف اس موضوع پر اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں:

آج جب کہ شامی عوام اور مہاجرین کو مدد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، ان کے بہت سے ’عرب بھائیوں‘ کے بازو کھلے ہوئے نہیں بلکہ بند ہیں۔ ترکی نے اپنے ہاں جن شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے، ان کی تعداد قریب دو ملین، اردن میں ساڑھے چھ لاکھ کے قریب اور لبنان میں قریب 1.3 ملین بنتی ہے۔ ان ریاستوں کی شامی مہاجرین کی بھرپور مدد پر آمادگی قابل تعریف ہے۔

اس کے علاوہ ہزارہا شامی مہاجرین یورپ کا رخ بھی کر رہے ہیں۔ جرمن حکومت کے اندازوں کے مطابق سال رواں کے دوران جرمنی آنے والے مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ تک رہے گی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں چار گنا ہو گی۔ ان میں سے بہت بڑی اکثریت شامی مہاجرین کی ہو گی، جو آج بھی آئے دن ہزاروں کی تعداد میں جرمنی پہنچ رہے ہیں۔

ان ڈرامائی اعداد و شمار کے حوالے سے ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ خلیج کی عرب ریاستوں نے اپنے ہاں کتنے شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کسی ایک کو بھی نہیں۔ نہ قطر نے، نہ متحدہ عرب امارات نے، نہ سعودی عرب نے، نہ کویت نے، نہ اومان نے اور نہ ہی بحرین نے۔ ایک تکلیف دہ سوال یہ بھی ہے کہ خلیج کی یہی عرب ریاستیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی بات کرتے ہوئے ’مسلم امہ‘ کی اصطلاح تو بڑے جوش و جذبے سے استعمال کرتی ہیں لیکن اب ان کی ’یکجہتی‘ اور ’اخوت‘ کہاں گئی؟

ان مہاجرین کو سلامتی، تحفظ اور بہتر مستقبل کے امکانات مہیا کرنے کی بجائے سعودی عرب نے تو مبینہ طور پر یہ پیشکش بھی کر دی ہے کہ وہ ان مسلم مہاجرین کے لیے جرمنی میں 200 مساجد کی تعمیر کی خاطر مالی وسائل مہیا کرنے پر تیار ہے۔ یہ بات لبنان کے ایک اخبار ’الدیار‘ نے ’مسلمان مہاجرین کے مذہبی رہنماؤں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں لکھی۔ اخبار کے مطابق سعودی عرب ان مساجد کی تعمیر کے لیے 200 ملین امریکی ڈالر کے برابر رقوم مہیا کرنے پر تیار ہے۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب کی اس مبینہ سوچ پر جرمنی میں سیاسی شخصیات کی سطح پر سخت تنقید کرتے ہوئے مذمتی ردعمل ظاہر کیا گیا حالانکہ ’الدیار‘ کی اس بارے میں رپورٹوں کی سعودی عرب نے اب تک سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی۔

Ungarn Flüchtlinge am Bahnhof Keleti Budapest

ہزارہا شامی مہاجرین یورپ کا رخ بھی کر رہے ہیں

بات یہ ہے کہ شامی خانہ جنگی سے فرار حاصل کرنے والے مہاجرین کو، چاہے وہ کہیں بھی ہوں، اور زیادہ مساجد کی نہیں بلکہ ٹھوس صورت میں مدد اور یکجہتی اور اخوت کے عملی اظہار کی ضرورت ہے۔ جرمنی نے اپنے ہاں اب تک جن شامی مہاجرین کو پناہ دی ہے، ان سے وہ واضح طور پر یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہ برلن حکومت کے اس انسانی دوست رویے پر اس کے شکرگزار ہوں گے۔ اس سلسلے میں خلیجی عرب ریاستوں کے مسلم اخوت اور بھائی چارے کے نعرے اب تک کھوکھلے ہی ثابت ہوئے ہیں۔

شامی مہاجرین کو وہ جہاں کہیں بھی ہوں، مساجد کی نہیں بلکہ مدد کی ضرورت ہے۔ انہیں انسانی بنیادوں پر مدد درکار ہے۔ جرمنی میں یہ مسلم مہاجرین عبادت کہاں کریں گے، اس سلسلے میں جرمنی ہی میں پہلے سے آباد کئی ملین مسلمان خود بھی ان کی بہت تسلی بخش مدد کر سکتے ہیں۔