1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران: دنیا بڑی دیر سے حرکت میں آئی، گوٹیرش

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین انٹونیو گوٹیرش کے مطابق دنیا نے شام اور دیگر خطوں میں جاری جنگوں کے باعث مہاجرین کے بحران پر ردعمل میں بڑی تاخیر کر دی لیکن امیر ملکوں کو اب بظاہر اس بحران کی شدت کا اندازہ ہو رہا ہے۔

نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انٹونیو گوٹیرش نے کہا، ’’بدقسمتی سے امراء کو غریبوں کے وجود کا احساس صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ ان کے ایوانوں میں داخل ہوتے ہیں۔‘‘

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ نے کہا، ’’ترقی یافتہ ممالک کو اس بحران کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوا جب بہت بڑی تعداد میں مختلف ملکوں سے مہاجرین نے یورپ کا رخ کرنا شروع کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ماضی میں ان ترقی پذیر ممالک کو مدد فراہم کی جاتی، جہاں ان مہاجرین نے پناہ لے رکھی تھی، تو موجودہ بحرانی صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔‘‘

شام میں جاری کئی سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں کئی ملین شامی شہری زیادہ تر اپنے وطن کے ترکی، اردن اور لبنان جیسے پڑوسی ممالک کی بہت سی خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ان میں سے ہزارہا مہاجرین نے زمینی اور سمندری راستوں سے یورپ کا رخ کرنا شروع کر رکھا ہے۔

انہی ہزار ہا شامی مہاجرین اور دیگر بحران زدہ خطوں سے آنے والے تارکین وطن کی آمد کے نتیجے میں یورپ میں نہ صرف دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کا مہاجرین کا سب سے بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے بلکہ اس بحران کے ممکنہ حل کے طریقوں پر یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں اختلافات بھی پیدا ہو چکے ہیں۔ اس سال کے آغاز سے صرف سمندری راستوں سے ہی اب تک یورپی یونین کی حدود میں داخل ہونے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد قریب چار لاکھ بنتی ہے۔

اس بحران کے حل کے لیے اب تک جرمنی نے مہاجرین کو اپنے ہاں قبول کرنے کے لیے سب سے زیادہ کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہزارہا پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے تاہم کئی مشرقی یورپی ممالک ابھی بھی کسی یورپی کوٹہ سسٹم کے ذریعے ایسے مہاجرین کو بڑی تعداد میں اہنے ہاں قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

اس پس منظر میں عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ انٹونیو گوٹیرش نے نیو یارک میں روئٹرز کو بتایا کہ شام میں ابھی تک امن قائم نہ ہونے اور شامی مہاجرین کو قبول کرنے والے پڑوسی ممالک کی کافی مدد نہ کیے جانے کی وجہ سے ترکی، اردن اور لبنان سے بڑے پیمانے پر ایسے مہاجرین کے انخلا کا خطرہ آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

UNHCR Hoher Flüchtlingskommissar Antonio Guterres

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انٹونیو گوٹیرش

گوٹیرش نے یورپی یونین کے رکن مشرقی یورپی ملک ہنگری کی حکومت کے اس موقف سے بھی اختلاف کیا کہ اس وقت یورپ آنے والے مہاجرین کی اکثریت حقیقی معنوں میں مہاجر نہیں بلکہ روزگار کی تلاش میں اس براعظم کا رخ کر رہی ہے۔

انٹونیو گوٹیرش نے کہا کہ امیر ممالک اب ’بالآخر بیدار ہو رہے ہیں‘۔ سیاسی رہنما اس بحران کی شدت اور انسانی بنیادوں پر متاثرین کی فوری مدد کی ضرورت بھی آخرکار سمجھنے لگے ہیں۔ ’’ترکی، اردن اور لبنان سے مہاجرین کے انخلا کی ایک بڑی وجہ مناسب حد تک بین الاقوامی امداد کی عدم فراہمی ہے۔ ان ممالک کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے وسیع تر مدد درکار ہے۔‘‘

اسی دوران نیو یارک سے موصولہ دیگر رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون آئندہ بدھ تیس ستمبر کے روز نیو یارک ہی میں ایک ایسا اعلیٰ سطحی اجلاس بھی بلا رہے ہیں، جس میں مہاجرت کی تازہ ترین لہر اور مہاجرین کے بحران پر بحث کی جائے گی۔

DW.COM