1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین کا بحران دراصل یورپی مائیگریشن پالیسی کا بحران ہے‘

یورپی یونین کی ایجنسی برائے حقوقِ انسانی کے ڈائریکٹر میشائیل اوفلیہرٹے نے انفو مائگرنٹس کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ مہاجرین کے بحران کی اصل وجہ اس بابت یورپی یونین کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔

انفو مائیگرینٹس کے ساتھ میشایئل اوفلیہرٹے کی گفت گو:

انفومائیگرنٹس: بنیادی حقوق کی ایجنسی مہاجرین کے بحران میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟

میشایئل اوفلیہرٹے: مہاجرین کا بحران یا درست کہا جائے تو مہاجرت کی بابت یورپی پالیسی کا بحران بہت سی جہتوں میں ہماری توانائیاں لے رہا ہے۔ میں ابھی دو روز قبل یونانی جزيرے خیوس میں تھا۔ یہ میرا اس علاقے کا تیسرا دورہ تھا، جہاں مہاجرین کے مراکز قائم ہیں۔ ہم پوری طرح متحرک ہیں تاکہ مہاجرین کو درپیش انسانی حقوق کے مسائل پر نگاہ رکھ سکیں اور جہاں ممکن ہو ان کے حل کی کوشش کریں۔

گزشتہ ڈیڑھ برس میں ہم نے اس سلسلے میں خاصی بہتری دیکھی ہے، مگر اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ ہم یونان اور اٹلی میں پوری مستعدی سے کام کرتے رہیں گے۔ ہمارے کام کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم یورپی یونین کی مہاجرین کے بحران سے متاثرہ ان 14 رکن ریاستوں میں مہاجرین کی صورت حال پر نگاہ رکھتے ہیں اور ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ عوام کے سامنے لاتے ہیں۔

Griechenland Flüchtlingscamp auf Chois (Getty Images/AFP/L. Kouliamaki)

یونان اور اٹلی میں ہزاہا مہاجرین موجود ہیں

آپ مہاجرین کے بحران کو مائگریشن پالیسی کا بحران کیوں کہتے ہیں؟

کیوں کہ میں اس کا الزام لوگوں پر عائد نہیں کرتا۔ یورپ پہنچنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق چند مخصوص ممالک سے ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ یورپ آنے والے زیادہ تر تارکین وطن معاشی وجوہات کی بنا پر یہاں آ رہے ہیں یا پھر ان کے آبائی ممالک میں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے ان پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان افراد کو کس طرح قبول کرتے ہیں اور انہیں کتنی عزت دیتے ہیں۔ ہم نے تارکین وطن کا سارا بوجھ چند مخصوص ریاستوں پر ڈال رکھا ہے، جن میں یونان اور اٹلی سرفہرست ہیں۔ ان ممالک پر شدید بوجھ ہے اور یورپی یونین کو یہ بوجھ بانٹنا چاہیے۔ اس لیے میں اسے یورپی پالیسیوں کا بحران سمجھتا ہوں۔

اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

سب سے پہلے تو ہمیں ان مہاجرین کے استقبالیہ مراکز کی حالت بہتر بنانا چاہیے۔ پھر ہمیں بین الاقوامی قانون کی پاس داری کرنا چاہیے۔ تاکہ جب کوئی شخص یہاں پہنچے اور اس کی سیاسی پناہ کی درخواست درست ہو، تو اسے سیاسی پناہ ضرور ملے۔ تیسری بات یہ کہ تارکین وطن کے حوالے سے ذمہ داری تمام یورپی ریاستوں کو مل کر ادا کرنا چاہیے۔

پہلی بار یہ انٹرویو انفومائیگرنٹس پر 26 جون 2017 کو شائع کیا گیا

اس انٹرویو کا ذریعہ انفومائیگرنٹس2017 ہے