1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مہاجرین کا بحران: جرمن عوام جذبات کے بجائے حقائق سے کام لیں

جرمن حکومت ملک میں آنے والے مہاجرین اور ان کے انضمام سے متعلق گیارہ رپورٹیں پیش کر چکی ہے۔ اصل میں یہ حقائق ہیں کیا؟ اس حوالے سے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کیتھولک فلاحی تنظیم نے اپنی ایک نئی رپورٹ پیش کی ہے۔

مہاجرین سے متعلق پھر ایک نئی رپورٹ؟ کیتھولک فلاحی تنظیم مالٹیزر کی طرف سے نئی رپورٹ پیش کرنے والے کارل پرنس سُو لووین شٹائن کے مطابق انہیں علم تھا کہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا۔ بدھ کے روز برلن میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’کیوں کہ یہ رپورٹ باقی رپورٹوں سے مختلف اور منفرد ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے نتائج غیرجانبدار محققین کے جائزوں پر مشتمل ہیں اور اس میں ان تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا گیا ہے، جو ان کی فلاحی تنظیم نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران مہاجرین کی مدد کرتے ہوئے حاصل کیے۔

اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مہاجرین سے متعلق بحث جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر کی جانا چاہیے۔ یہ رپورٹ جرمن شہر فرائی برگ کے والٹر اوئیکن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے تیار کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے آغاز میں ہی اس ادارے کے ڈائریکٹر لارس پیٹر فیلڈ لکھتے ہیں، ’’جرمنی ایک ایسا ملک ہے جہاں تارکین وطن آتے ہیں۔ یہ ماضی میں بھی ایسا ہی تھا۔ اس کے لیے ہمیں تاریخ میں بہت پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی مہاجرین کی آمد اور امیگریشن کے واقعات کو دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘

لارس پیٹر فیلڈ اس حوالے سے مزید لکھتے ہیں، ’’اگر تب حاصل ہونے والے تجربات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ  مہاجرین کو روزگار کی منڈی میں شامل کرنے سے ان کے معاشرتی انضمام کے عمل میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یورپ کے باہر سے آنے والے مہاجرین کا روزگار کی منڈی میں انضمام اچھے طریقے سے نہیں کیا گیا۔ اس راہ میں بڑی رکاوٹیں جرمن زبان کا کم علم، اچھی تکنیکی تربیت کی کمی اور مہاجرین کی ان کے آبائی ممالک میں حاصل کردہ تعلیمی اسناد کا جرمنی میں اکثر تسلیم نہ کیا جانا ہیں۔‘‘

اس رپورٹ میں مہاجرین اور ان سے منسوب کیے جانے والے لفظ ’جرم‘ پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت جرمنی میں ہونے والے جرائم کی شرح بیس برس پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ سن انیس سو ترانوے کے مقابلے میں غیر ملکی ملزمان کی شرح ایک تہائی سے بڑھ کر چالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا گیا  ہےکہ ایسا ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ گزشتہ دو برسوں میں مہاجرین کے آنے سے ملک میں جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کے مہاجرین کے حوالےسے جرائم کی شرح بھی مختلف ہے۔ مثال کے طور پر شمالی افریقی ممالک کے مہاجرین کی تعداد صرف دو فیصد ہے لیکن جرائم کی شرح میں ان کا حصہ گیارہ فیصد بنتا ہے۔

دوسری طرف اسی فہرست میں شام، عراق اور افغانستان سے آنے والے تارکین وطن کا نمبر شمالی افریقی ممالک کے تارکین وطن کے مقابلے میں کہیں نیچے ہے اور ان ممالک سے آنے والے مہاجرین میں کئی دوسرے ممالک کے باشندوں کی نسبت جرائم کے ارتکاب کی شرح انتہائی کم ہے۔