1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران، ایک برس میں یورپ کا موڈ کیسے تبدیل ہو گیا؟

گزشتہ برس اگست میں آسٹریا میں ایک ٹرک سے 71 مہاجرین کی لاشوں یورپ بھر میں مہاجرین کے لیے دل اور دروازے کھول دینے پر مجبور کر دیا تھا، مگر ایک سال میں صورت حال بدل چکی ہے۔

ٹھیک ایک برس قبل یورپ بھر میں عوام کی اکثریت کی جانب سے اپنی اپنی حکومتوں پر خاصا دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ زدہ ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے سرحدیں کھول دیں۔ یہ افراد شام اور عراق جیسے ممالک میں جنگی تنازعات اور بھوک سے تنگ آ کر یورپ کا رخ کر رہے تھے۔ اس دباؤ ہی کے تناظر میں جرمنی سمیت یورپ بھر کے ممالک نے ان مہاجرین کے لیے سرحدیں کھول دیں اور لاکھوں مہاجرین یورپ پہنچ گئے، تاہم ایک ہی برس میں مہاجرین کے حوالے سے یورپی عوام اور حکومتوں کی رائے خاصی بدل چکی ہے۔ اسی لیے مختلف یورپی ممالک کی سرحدوں پر خار دار تاریں اور سرحدی گزرگاہوں پر چیکنگ کے سخت ترین اقدامات دکھائی دے رہے ہیں، جو اس سے قبل دکھائی نہیں دیتے تھے۔

اسی بحران کی شدت کے تناظر میں یورپی یونین کو ترکی کے ساتھ ایک متنازعہ ڈیل بھی کرنا پڑی، کیوں کہ یونان ہی کے ذریعے لاکھوں افراد یورپی یونین پہنچے تھے۔ تاہم شمالی افریقہ سے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد بھی کم نہیں۔

سرحدوں کی بندش، خار دار تاروں اور ترکی کے ساتھ متنازعہ معاہدے کے بعد مہاجرین کی یورپ آمد میں تو خاطر خواہ کمی ہوئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اب بھی یہ بحران اپنے خاتمے سے بہت دور ہے۔

Griechenland Idomeni viele Flüchtlinge gehen auf Landstraße

ایک برس قبل کے مقابلے میں اب عوامی رائے خاصی تبدیل ہو چکی ہے

آسٹریا میں انسانوں کی اسمگلنگ کے انسداد کی فورس کے سربراہ گیرالڈ ٹاٹزگرن کا کہنا ہے، ’’گہری نظر سے دیکھا جائے تو مختلف ممالک میں تنازعات کی وجہ سے یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دینے والوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں اس وقت اور بھی زیادہ ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے، ’’ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ گزشتہ برس جیسی صورت حال دوبارہ پیش نہیں آ سکتی ہے۔‘‘

گزشتہ برس آسٹریا نے ہنگری سے آنے والے ایک ٹرک کی تلاشی لی تو اس میں پولٹری کے اس ریفریجریٹر ٹرک میں 71 افراد کی لاشیں ایک پر ایک گری ہوئی تھیں، ان لاشوں میں ایک برس سے بھی کم عمر ایک بچی کی لاش بھی شامل تھی۔ یہ افراد اس ریفریجریٹر میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم حالیہ کچھ عرصے میں یورپ میں پیش آنے والے پے در پے دہشت گردانہ حملوں کے بعد، جن میں سے متعدد کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی، عوامی رائے میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس صورت حال سے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی عوامی مقبولیت میں ماضی کے مقابلے میں واضح اضافہ کیا ہے۔