مہاجرین کا بحران، اعدادوشمار میں | مہاجرین کا بحران | DW | 20.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین کا بحران، اعدادوشمار میں

مہاجرین کے عالمی بحران سے نمٹنے کی خاطر عالمی رہنما پیر کے دن نیو یارک میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تنازعات اور شورش کے باعث اس وقت 65.3 ملین انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔

امریکی شہر نیو یارک میں ہونے والی اس اہم سمٹ میں عالمی رہنما مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے تبادلہ خیال کریں گے۔ اس مناسبت سے امدادی اداروں کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ امیر ممالک مہاجرین اور تارکین وطن کی آباد کاری کے حوالے سے اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔

پیر کو ہونے والا یہ اجلاس اس بحران کے تناظر میں اپنی نوعیت کی اولین کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 65.3 ملین انسان بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس سمٹ کے بعد منگل کے دن امریکی صدر باراک اوباما کی سربراہی میں ایک اور کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔

ناقدین کے مطابق مہاجرین کے بحران کے حل کے لیے یہ سمٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔ اگر عالمی رہنما اس حوالے سے ایک متقفہ اور مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس بحران پر قابو پانے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ اس وقت عالمی سطح پر مہاجرین کے بحران کی صورت حال کیا ہے اور اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟

- ہر ایک سو تیرہ افراد میں سے ایک فرد پناہ کا متلاشی ہے یا اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو چکا ہے یا پھر وہ مہاجرت اختیار کر چکا ہے۔

- گزشتہ برس عالمی سطح پر ہر منٹ اوسطاً چوبیس افراد شورش اور تنازعات سے بچنے کی خاطر اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

- سن دو ہزار پندرہ کے اختتام تک شورش اور تنازعات کے باعث دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 65.3 ملین تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں اکیس ملین مہاجرین تھے، تقریبا چالیس ملین اپنے ہی ممالک میں بے گھر ہوئے تھے جبکہ تین اعشاریہ دو ملین پناہ کے متلاشی افراد تھے۔

- اگر ان بے گھر افراد کے لیے کوئی ملک بنا دیا جائے تو یہ دنیا بھر میں اکیسواں سب سے بڑا ملک ہو گا۔ ان بے گھر افراد کی تعداد اٹلی کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

- اس وقت دنیا بھر میں موجود مجموعی مہاجرین میں سے نصف کا تعلق تین ممالک یعنی شام (چار اعشاریہ نو ملین) افغانستان (دو اعشاریہ سات ملین) اور صومالیہ (ایک اعشاریہ ایک ملین) سے ہے۔

- اپنے ہی ملک میں سب سے زیادہ بے گھر ہونے والے افراد کا تعلق کولمبیا سے ہے، جن کی تعداد چھ اعشاریہ نو ملین بنتی ہے۔ دوسرے نمبر پر شام ہے، جہاں چھ اعشاریہ چھ ملین افراد بے گھر ہیں، جب کہ عراق اس فہرست میں تیسرے نمبر پر آتا ہے، جہاں چار اعشاریہ چار ملین افراد اپنے ہی ملک میں دربدر ہیں۔

- تازہ اعدادوشمار کے مطابق ترقی پذیر ممالک نے چھیاسی فیصد مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔ ترکی نے سب سے زیادہ یعنی دو اعشاریہ پانچ ملین مہاجرین کو پناہ دی ہے۔

- لبنان ایک ایسا ملک ہے، جس نے اپنی مجموعی آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مہاجرین کو خوش آمدید کہا ہے۔ اس ملک میں تقریبا ہر پانچ شہریوں کے بعد ایک مہاجر آتا ہے۔

- عالمی سطح پر تقریبا ہر دو سو بچوں میں سے ایک بچہ مہاجر ہے۔ گزشتہ عشرے کے مقابلے میں اب مہاجر بچوں کی تعداد دوگنا سے بھی زائد ہو چکی ہے۔

- مہاجرت اختیار کرنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اکیلے ہی ملکی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے دیگر ممالک مہاجرت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس ایک لاکھ سے زائد لاوارث بچوں نے مختلف اٹھہتر ممالک میں پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ سن دو ہزار چودہ کے مقابلے میں یہ تعداد تین گنا سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

DW.COM