1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین پر اخراجات اندازوں کے برعکس نہیں، جرمن وزارت خزانہ

جرمن وزارت خزانہ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کہا جا رہا تھا کہ وفاقی حکومت کو سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے اندازوں سے کہیں زیادہ سرمایہ خرچ کرنا پڑا ہے۔

اس سے قبل ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں، جن کے مطابق سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے استقبالیہ مراکز، رہائش اور دیکھ بھال کی مد میں جرمن حکومت کی جانب سے خرچ کیا جانے والا سرمایہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ہفتے کے روز جرمن وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ سن 2016ء میں مہاجرین کے  لیے خرچ کردہ سرمائے سے متعلق اخباری رپورٹ میں حقائق مشکوک اور نادرست ہیں۔

وزارتی بیان میں کہا گیا ہے، ’’جرمن وزارت خزانہ ان اعداد و شمار کو مکمل طور پر رد کرتی ہے۔‘‘

Projekt Digital Empowerment für afghanische Flüchtlinge (Getty Images/S. Gallup)

مہاجرین کے حوالے سے متعدد طرح کے تربیتی کورسز بھی جاری ہیں

جرمن اخبار ڈی ویلٹ نے اپنے ایک رپورٹ میں جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں کے ذرائع کے حوالے سے کہا تھا کہ باویریا، شلیسویگ ہولشٹائن، ہیسے اور برلن کی ریاستوں میں تارکین وطن کے لیے مختص کردہ سرمائے سے زائد خرچ ہوا۔

وزارت خزانہ کا تاہم کہنا ہے کہ گزشتہ برس اس سلسلے میں مختلف صوبوں کا بجٹ آٹھ اعشاریہ آٹھ ارب یورو سرپلس رہا ہے، حالاں کہ اس کے حوالے سے قریب ساڑھے گیارہ ارب یورو خسارے کے امکانات تھے۔

جرمن پارلیمان کی سائینٹیفک سروس کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایوان زیریں کی سائیٹیفک سروس کی رپورٹ میں اعداد و شمار جمع کرنے کا طریقہ کار درست نہیں تھا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں صوبوں کے انفرادی اخراجات کی بنیاد پر حتمی بات نہیں کہی جا سکتی  اور اس سے اس حوالے سے خرچ ہونے والی مجموعی سرمائے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

اس حوالے سے جرمنی کا وفاقی دفتر برائے شماریات ٹھوس اعداد و شمار رواں برس جاری کرے گا، جن سے یہ واضح ہو سکے گا کہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کے ملک میں داخلے، رجسٹریشن، رہائش، خوراک اور انضمام کے شعبے میں مجموعی طور پر کتنا سرمایہ خرچ کیا گیا۔