1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرین وطن ضرور جائیں، لیکن چھٹیاں گزارنے نہیں‘

جرمنی میں سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدین اُوزوس نے ملک میں بسنے والے مہاجرین کا مختصر مدت کے لیے اپنے وطنوں کا سفر کرنے کا دفاع کیا ہے۔ کئی مہاجرین چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے آبائی وطنوں کا رخ کرتے ہیں۔

جرمن میڈیا میں آنے والی ان خبروں کے بعد کہ تسلیم شدہ مہاجرین مختصر مدت کے لیے اپنے وطن کا سفر کرتے ہیں اور پھر واپس جرمنی آ جاتے ہیں، کئی جرمن سیاست دان تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق مہاجرین اپنے وطنوں میں درپیش جانی خطرات کو جواز بنا کر جرمنی میں پناہ لیتے ہیں، لیکن بعد ازاں چھٹیاں گزارنے اسی وطن واپس بھی چلے جاتے ہیں، جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انہیں اپنے وطنوں میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی اپیلیں، پاکستانی سر فہرست

جرمنی میں کسے پناہ ملے گی اور کسے جانا ہو گا؟

تاہم سماجی انضمام کی ملکی کمشنر آئیدین اُوزوس کا کہنا ہے کہ مختصر وقت کے لیے گھر واپس جانے والے مہاجرین صرف چھٹیاں منانے کی غرض سے نہیں جاتے۔ اس موضوع پر ’فُنکے میڈیا گروپ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اُوزوس کا کہنا تھا، ’’تسلیم شدہ مہاجرین کی مختصر مدت کے لیے وطن واپسی کی کئی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔‘‘

لیکن اُوزوس کا بھی یہی کہنا تھا کہ جرمنی میں رہنے والے مہاجرین کو اپنے وطنوں کا سفر صرف ناگزیر حالات ہی میں کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر اس بات پر یقین ختم ہو جائے گا کہ ان مہاجرین کے آبائی وطن میں ان کی زندگیوں کو کوئی خطرہ ہے۔

ناگزیر صورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر کا کہنا تھا، ’’اگر کسی کی ماں بستر مرگ پر ہو اور آخری مرتبہ انہیں دیکھنے کے لیے کوئی وطن واپس جائے تو اسے چھٹیاں گزارنا نہیں کہا جانا چاہیے۔‘‘

میڈیا رپورٹوں کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران جرمنی میں پناہ گزین کئی مہاجرین نے مختصر مدت کے لیے اپنے وطنوں کا سفر کیا تھا۔ وفاقی جرمن ریاست باڈن ورٹمبرگ میں غیر ملکیوں کے امور سے متعلق وفاقی جرمن دفتر کے مطابق سن 2014 کے بعد اپنے آبائی وطن جا کر واپس آنے والے سینکڑوں مہاجرین کا جرمنی واپسی کے بعد بھی ’تسلیم شدہ مہاجر‘ کا درجہ برقرار رکھا گیا تھا۔

باڈن ورٹمبرگ کے صوبائی وزیر انصاف گوئیڈو وولف نے اس حوالے سے کہا، ’’جب مہاجرین کو جرمنی میں اس بنیاد پر پناہ دی گئی کہ انہیں ان کے وطنوں میں خطرات لاحق ہیں اور پھر پناہ مل جانے کے بعد وہ چھٹیاں گزارنے اسی وطن واپس چلے جائیں تو یہ ایک واضح تضاد ہے۔‘‘

جرمنی واپسی کے بعد بھی تسلیم شدہ مہاجر کا درجہ برقرار رکھے جانے کے بارے میں وولف کا کہنا تھا کہ اگر اس بارے میں کوئی قانونی سقم پائے جاتے ہیں تو انہیں دور کیا جانا چاہیے۔

2017ء جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہو گا، جرمن وزیر

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic