1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین مخالف پارٹی کی سوچ نازیوں سے مختلف نہیں، گابریئل

جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے مہاجرین مخالف جماعت AfD کا موازنہ نازیوں سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جماعت جرمن معاشرے کو 1960 کی دہائی میں واپس لے جانا چاہتی ہے۔

اتوار تیرہ جون کے روز شائع ہونے والے اپنے ایک بیان میں جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور وفاقی نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے کہا کہ ’جرمنی کے لیے متبادل‘ کے نعرے کے ساتھ سیاست کے میدان میں اترنے والی ملکی جماعت مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف بیانات دے کر اشتعال انگیزی پیدا کر رہی ہے۔

فُنکے میڈیا گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے میں زیگمار گابریئل کا کہنا تھا، ’’یہ جو جو باتیں کہہ رہے ہیں، وہ سب میں نے بہت اچھی طرح سے سن رکھی ہیں، کیوں کہ خود میرا اپنا باپ بھی اپنی آخری سانس تک نازی تھا۔‘‘

’ہیمبرگر آبند بلَٹ‘ اور ’برلِنر مورگن پوسٹ‘ جیسے روزناموں سمیت متعدد جرمن اخبارات کے مالک ادارے فُنکے میڈیا گروپ سے بات چیت میں گابریئل نے مزید کہا کہ اے ایف ڈی کے بعض رہنما جرمنی کی کثیرالثقافتی اور جدید اقدار کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔

اے ایف ڈی حالیہ کچھ مہینوں سے مہاجرین اور بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے انتہائی سخت بیانات میں مصروف ہے۔ اس جماعت نے ابھی حال ہی میں اپنی ایک ملکی کانگریس میں کہا تھا کہ اسلام اور جرمن دستور ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

گزشتہ برس جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول دینے کے اعلان کے بعد قریب گیارہ لاکھ مہاجرین جرمنی پہنچے تھے، تاہم مہاجرین کی اس بڑی تعداد کے جرمنی آنے پر عوام میں کئی معاملات میں تشویش بھی پائی جاتی ہے، جس میں ایک معاملہ مہاجرین میں شامل مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے جرمن معاشرے میں انضمام کا بھی ہے۔

اسی تناظر میں AfD کی مقبولیت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب یہ جماعت جرمنی کے 16 وفاقی صوبوں میں سے آٹھ کے پارلیمانی اداروں میں نمائندگی کی حامل ہے۔ عوامی جائزے بتا رہے ہیں کہ اس وقت اس جماعت کو قومی سطح پر 15 فیصد جرمن عوام کی حمایت حاصل ہے۔

گزشتہ ماہ AFD کے نائب سربراہ الیگزانڈر گاؤلینڈ کے ایک بیان پر اس وقت غصے کی ایک لہر دیکھی گئی تھی، جب انہوں نے جرمن قومی فٹ بال ٹیم کے سیاہ فام کھلاڑی جیروم بوآٹَینگ کے بارے میں کہا تھا کہ لوگ اس کھلاڑی کو اپنا ہمسایہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ بوآٹَینگ جرمن دارالحکومت برلن میں پیدا ہوئے تھے اور پیدائشی طور پر ان کے والد کا تعلق گھانا سے ہے۔

اس جماعت کی سربراہ فراؤکے پیٹری نے اس بیان پر بعد میں بوآٹَینگ سے معذرت بھی کی تھی۔ تاہم اس سے قبل خود ان کے اپنے ایک بیان پر اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا، جب انہوں نے تجویز دی تھی کہ غیرقانونی مہاجرین سے نمٹنے کے لیے جرمن پولیس کو گولی چلانے کے اختیارات دیے جانا چاہییں۔

اس سیاسی پارٹی کے بارے میں جرمن نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے مزید کہا، ’’یہ چاہتے ہیں کہ ہم 1960ء کی دہائی کی مغربی جرمن جمہوریہ میں تبدیل ہو جائیں، جہاں خواتین گھروں میں رہا کرتی تھیں، ہم جنس پرستوں کو چھپنا پڑتا تھا اور بیئر کے ساتھ قدیم فوجی ترانے گائے اور سنے جاتے تھے۔‘‘