مہاجرین مخالف جماعت نے قوم پرست رہنما کو شریک سربراہ چن لیا | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین مخالف جماعت نے قوم پرست رہنما کو شریک سربراہ چن لیا

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت AfD نے ایک دائیں بازو کے قوم پرست رہنما کو اپنا شریک سربراہ منتخب کر لیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس جماعت کا نقطہ نظر مزید سخت ہو سکتا ہے۔

جرمنی کی مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (AfD) کی ہینوور شہر میں منعقد ہونے والی پارٹی کانگریس میں اس جماعت کے ارکان نے الیگزانڈر گاؤلینڈ کو اپنا شریک سربراہ منتخب کیا۔ گاؤلینڈ کو اے ایف ڈی جماعت کے ایک ایسے رکن کی حمایت کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے جس نے کہا تھا کہ تاریخ کو دوبارہ لکھا جانا چاہیے جس میں دوسری عالمی جنگ میں جرمن متاثرین کا ذکر بھی شامل ہونا چاہیے۔

اے ایف ڈی کے ارکان ہفتہ دو دسمبر کی شام ہینوور میں جس مقام پر  اپنا شریک سربراہ منتخب کر رہے تھے، اس وقت اس دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے ہزاروں مخالفین باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ہینوور نازیوں کے خلاف ہے‘‘ اور ’’نسل پرستی کے خلاف اٹھ کھڑے ہو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔

گزشتہ روز ہی قبل ازیں پولیس نے اُن درجنوں مظاہرین کے خلاف پانی کی تیز دھار پھینکنے والی گن کا استعمال کیا جنہوں نے کانگریس کے مقام کو جانے والی سڑک کو بند کر رکھا تھا۔ یہ مظاہرے دراصل اس جماعت کی سوچ کی مخالفت کا اظہار تھے۔ خیال رہے کہ اے ایف ڈی 24 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں وفاقی پارلیمان میں 100 کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔

 ہینوور میں ہونے والی اے ایف ڈی کی پارٹی کانگریس میں اس جماعت کے سربراہ یورگ میوتھن اس عہدے پر برقرار رہنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ میوتھن کو اس جماعت کا ایک نسبتاﹰ اعتدال پسند رہنما قرار دیا جاتا ہے۔

Deutschland Hannover AfD Parteitag Jörg Meuthen

اس جماعت کے سربراہ یورگ میوتھن اس عہدے پر برقرار رہنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے

پارٹی کانگریس کے دوران اے ایف ڈی کے مندوبین کو مختصر دورانیے کی ایک فلم بھی دکھائی گئی جس میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کی ایک ایسی تصویر پیش کی گئی جس میں بھکاریوں، پتھر پھینکنے والوں اور مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہی وہ تصورات ہیں جن کی بنیاد پر یہ دائیں بازو کی جماعت جرمنی کی کئی ایک ریاستوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔

آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کا قیام 2013ء میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد یورو زون کی ان پالیسیوں کی مخالفت تھا جو اس بلاک کی کمزور معیشتوں کو مدد فراہم کرنے سے متعلق تھیں۔ یہ جماعت دو برس قبل مہاجرین کی بڑی تعداد میں جرمنی آمد سے قبل محض تین فیصد ووٹ حاصل کرتی رہی۔ تاہم دو برس کے دوران 1.6 ملین مہاجرین کی پناہ کی تلاش میں جرمنی آمد کے بعد اس جماعت نے مہاجرین مخالفت اور اسلام کے حوالے سے خوف کو بنیاد بنا کر جرمنی کی بہت سی ریاستوں میں اپنی حیثیت کو کافی مضبوط کر لیا۔ اس وقت یہ جماعت جرمنی کی کُل 16 ریاستوں کی اسمبلیوں میں سے 14 میں نشستیں رکھتی ہے۔

DW.COM