1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین مجھ پر فخر کر سکیں گے، یسریٰ

شام میں ملکی سطح پر تیراکی کرنے والی دو بہنیں سارہ اور یسریٰ ماردینی بھی بحیرہ ایجیئن عبور کر کے جرمنی پہنچی تھیں۔ برلن کی نئی رہائشی یسریٰ کو یقنین ہے کہ وہ مہاجرین کی بین الاقوامی اولمپک ٹٰیم میں شامل کر لیا جائے گا۔

اٹھارہ سالہ شامی مہاجر یسریٰ ماردینی شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے ہجرت کر کے جرمنی آ گئی تھی۔ جرمن دارالحکومت برلن اب یسریٰ کا نیا گھر ہے۔

فی تارک وطن چھ سو ستر یورو ماہانہ بہت کم ہیں

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

رواں برس اولمپک مقابلے برازیل کے شہر ریو میں رواں برس پانچ اور اکیس اگست کے درمیان منعقد ہو رہے ہیں۔ اولمپک مقابلوں میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے مہاجرین کی ٹیم (ریفیوجی اولمپک ایتھلیٹس یا ROA) بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے یسریٰ کو مہاجرین کی ٹیم کے لیے 43 ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل کر لیا ہے۔

مہاجرین کی ٹیم کے لیے نامزد ہونے والے کھلاڑی آج اٹھارہ مارچ بروز جمعہ پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے آئے۔ اس غیر معمولی ٹیم نے میڈیا کی بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔

یسریٰ جب میڈیا سے بات کرنے لگی تو اس کے سامنے سو سے زائد صحافی موجود تھے۔ یسریٰ کا کہنا ہے، ’’مجھے چاہتی ہوں کہ دنیا بھر کے مہاجرین مجھ پر فخر کر سکیں۔ میں دکھانا چاہتی ہوں کہ جنگوں اور ہجرت کے باوجود انسان اگر کوشش کرے تو وہ بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔‘‘

ٹیم میں حتمی جگہ بنانے کے لیے سخت مقابلہ ہو گا لیکن اٹھارہ سالہ شامی لڑکی پر عزم ہے۔ یسریٰ ماردینی کا کہنا تھا، ’’میں باقی شامی لڑکیوں سے بات چیت کر چکی ہوں اور میں بہت خوش ہوں۔ ہم لوگ دوست بن چکے ہیں۔‘‘ یسریٰ اپنی بڑی بہن سارہ ماردینی کے ہمراہ پچیس دن تک دشوار گزار راستوں سے گزرتی ہوئی جرمنی پہنچی تھی۔

ریو اولمپک مقابلوں کے دوران جب مہاجرین کی ٹیم شرکت کرے گی تو ان کا کوئی اپنا پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہ اولمپکس کا جھنڈا اٹھائے اسے بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوں گے۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی ان کھلاڑیوں کو مقابلوں کی تیاری اور تربیت کے لیے کوچ اور دیگر سہولیات فراہم کرے گی۔

کمیٹی کے ڈائریکٹر پیرے میرو کے مطابق، ’’ہم ان ایتھلیٹس کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو اپنے کھیل کے معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔‘‘

مہاجرین کے ٹیم کے لیے ممکنہ امیدواروں کی فہرست مکمل ہو چکی ہے۔ صرف کینیا میں مہاجرین کے ایک کیمپ سے تئیس کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے۔

DW.COM