1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین فُٹ بال کے دیش میں کرکٹ کی مقبولیت کا ذریعہ

پاکستانی اور افغان مہاجرین کی آمد سے جرمنی میں کرکٹ کے کھیل کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا ہے۔ اب جرمنی کے کئی شہروں میں کرکٹ کلب قائم ہو چُکے ہیں۔

جرمنی کی قومی کرکٹ ٹیم کے زیادہ ترکھلاڑیوں کا تعلق بھارت، پاکستان، سری لنکا اور افغانستان سے ہے۔ جرمن کرکٹ فیڈریشن کے سربراہ برائن مینٹل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ابھی کرکٹ سیزن کا اختتام ہوا ہے اور اسی سال پورے ملک میں کئی شہروں میں کرکٹ کلب بنائے گئے ہیں۔ مینٹل نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’کرکٹ کے لحاظ سے گرمیوں کا سیزن بہت زبردست تھا، ہمیں بہت کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، آج آپ جرمنی کے کسی بھی شہر چلے جائیں، آپ کو وہاں کرکٹ کلب ضرور ملے گا۔‘‘

سن 2015 میں جرمنی نے آٹھ لاکھ نوے ہزار پناہ گزینوں کو قبول کیا تھا ان میں سے چالیس ہزار افغان اور پاکستانی مہاجرین تھے جنہوں نے جرمنی پہنچتے ہی پوچھا تھا،’’میں کرکٹ کہاں کھیل سکتا ہوں ؟ ‘‘ گزشتہ برس سے قبل فٹ بال کے جنون والے ملک جرمنی میں صرف 1500 کرکٹ کے کھلاڑی اور کرکٹ کی 70 ٹیمیں تھیں۔ مینٹل کا کہنا ہے کہ اب جرمنی میں پانچ ہزار کرکٹ کھلاڑی ہیں، 250 ٹیمیں ہیں اور 108 کرکٹ کلبز۔ مینٹل کہتے ہیں کہ ان کا ہدف ہے کہ وہ جرمنی کی قومی ٹیم کو جلد عالمی کرکٹ لیگ میں شامل کر پائیں۔

لندن کی ایک فلم کمپنی جرمنی میں کرکٹ کی مقبولیت پرایک فلم بنا رہی ہے۔ اس فلم کی کہانی کے مصنف اونیل شرما نے اے ایف پی کو بتایا،’’میں مہاجرین کے حوالے سے منفی کہانیاں سن سن کر تنگ آ گیا تھا میری فلم کی کہانی بتائے گی کہ کیسے کھیل ثقافتوں کو جوڑ سکتا ہے۔‘‘

کابل میں پیدا ہونے والا حامد وردک سن 2011 میں جرمنی پہنچا تھا اب وہ جرمنی کی قومی کرکٹ ٹیم میں کھیل رہا ہے۔ وردک کا کہنا ہے،’’میں افغانستان کو چھوڑ کر جرمنی پہنچا لیکن میرا ارداہ یہی تھا کہ میں برطانیہ یا ہالینڈ جا کر وہیں کرکٹ کھیلوں گا لیکن جرمنی میں ہی بہترین کرکٹ کھیلنا اور اس ملک کی عالمی سطح پر نمائندگی کرنا میرے لیے باعث فخر ہے۔‘‘

28 سالہ وردک جرمن زبان روانی سے بولتا ہے اور جرمنی کے شمالی شہر بریمرہافن میں مہاجرین کی مدد کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ بطور مترجم کام کرتا ہے۔

جرمنی میں کرکٹ کا کھیل ایسے کئی پناہ کے متلاشیوں کے لیے سکون کا باعث ہے جو نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ وردک کے لیے بھی کرکٹ ذہنی سکون کا باعث بنی ہے۔ وردک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سن 1991 میں پاکستان نقل مکانی کر گیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اس کے ایک بھائی کو افغانستان میں قتل کر دیا گیا اور اس کے والد کینسر سے ہلاک ہو گئے تھے۔ وردک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں بطور مہاجر گزارا لیکن پاکستان میں اسے کبھی ایسے قبول نہیں کیا گیا جیسا کہ جرمنی میں کیا گیا ہے۔ 

 

ویڈیو دیکھیے 02:33

کرکٹ کے فروغ کے لیے بون میں بچوں کا تربیتی کیمپ

 

DW.COM

Audios and videos on the topic