1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین سے ’سفاکانہ، پرتشدد سلوک‘: ہنگری تنقید کی زد میں

ہیومن رائٹس واچ نے ہنگری کی طرف سے مہاجرین کے ساتھ ’پرتشدد اور سفاکانہ سلوک‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہنگری کی پولیس اور فوج مہاجرین کو ملک بدر کرنے سے قبل انہیں مارتی پیٹتی بھی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہنگری کی طرف سے مہاجرین کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا جا رہا ہے، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ بتایا گیا ہے کہ سربیا سے ہنگری میں داخل ہونے والے بہت سے مہاجرین کو پرتشدد حالات کا سامنا ہے۔

DW.COM

انسانی حقوق کے اس ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے، ’’سربیا کی سرحد سے متصل ہنگری کے علاقوں سے مہاجرین کو زبردستی نکالا جا رہا ہے جبکہ کئی واقعات میں تو ان تارکین وطن سے پرتشدد اور سفاکانہ سلوک بھی کیا گیا۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اپنے ملک سے بے دخل کرتے ہوئے بوڈاپسٹ حکومت ان مہاجرین کے پناہ کے دعووں کو بھی نظر انداز کر دیتی ہے، جو مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔

نیو یارک میں قائم اس ادارے کی تازہ رپورٹ میں ایسے بارہ مہاجرین کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں، جو بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ ایک مہاجر کے بقول، ’’میں نے اس طرح کی مار پیٹ فلموں میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے ہمیں دانستہ طور پر بری طرح زخمی کر دیا۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ سے منسلک خاتون ماہر لِڈیا گال نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ایسے لوگ جو اجازت کے بغیر سربیا سے ہنگری داخل ہوئے، انہیں انتہائی بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور واپس سرب علاقے میں دھکیل دیا گیا۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔‘‘

دوسری طرف بوڈاپسٹ حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ہنگری کی وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق رواں برس ایسی صرف آٹھ شکایات موصول ہوئیں اور تفتیش سے پتہ چلا کہ یہ شکایات بھی درست نہیں تھیں۔

گزشتہ برس چار لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن ہنگری میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے، جو بعد ازاں آگے دیگر یورپی ممالک چلے گئے تھے۔ مہاجرین کے اس بحران کی شدت کی وجہ سے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے سربیا کی سرحد سے متصل راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرا دی تھیں تاکہ تارکین وطن کے غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔

سرحدی راستوں کی بندش کے علاوہ بوڈاپسٹ نے مہاجرین سے متعلق سخت قوانین بھی متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت ملک میں داخل ہونے والے غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجنے کے علاوہ انہیں سزائیں بھی سنائی جا سکتی ہیں۔

وکٹور اوربان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد میں مہاجرت کی وجہ سے یورپ کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں جبکہ یوں اس براعظم کی مسیحی شناخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔