1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’’مہاجرین سے جرمنی تبدیبل ہو جائے گا‘‘ میرکل

جرمنی آج کل شامی پناہ گزینوں کے لیے بہتر زندگی کی ایک ’امید‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے بقول آنے والے مہاجرین سے ملک میں تبدیلی آئے گی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ بڑی تعداد میں آنے والے مہاجرین یورپ کی اس سب سے بڑی اقتصادی قوت کو تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ ’’ہم جس کا تجربہ کر رہے ہیں وہ آنے والے برسوں ہمارے ملک میں بڑی تبدیلی کا باعث بنے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب ابھی گزشتہ اختتام ہفتہ پر ہی جرمنی میں بیس ہزار مہاجرین آئے ہیں۔ انگیلا میرکل نے مزید کہا ’’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تبدیلی مثبت ثابت ہو اور ہمارا خیال ہے کہ اس کوشش میں ہم کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔

میرکل نے مزید کہا کہ جرمنی کے مختلف شہروں میں مہاجرین کا شاندار انداز میں استقبال کیا ہے۔ میرکل کے بقول ریلوے اسٹیشنز پر جس طرح اچانک سے شہری شامی مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھے، وہ واقعی متاثر کن اور سحر انگیز لمحات تھے۔ ’’یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے خاص طور پر اگر اسے جرمنی کے ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے‘‘۔

اس موقع پر میرکل نے انتہائی فخریہ انداز میں کہا کہ ’’جرمنی وہ ملک ہے جسے لوگ امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔‘‘ میرکل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دیگر یورپی ممالک کو بھی زیادہ سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف ایک مشترکہ یورپی یکجہتی سے ہی اس کوشش کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ میرکل کے مطابق یکجہتی کا مطلب تارکین وطن کی منصفانہ تقسیم ہے۔

اندازہ ہے کہ جرمنی میں اس سال آٹھ لاکھ افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائیں گے۔ اس سلسلے میں پناہ گزینوں کے لیے انتظامات کی مد میں جرمنی کواضافی طور پر کم از کم دس ارب یورو کی ضرورت ہو گی۔ جرمن شہر میونخ آج کل پناہ گزینوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ افراد ہنگری سے آسٹریا کے راستے میونخ پہنچ رہے ہیں۔ جرمن ریلوے ڈوئچے بان کے حکام نے بتایا ہے کہ ان دنوں کے دوران بائیس ہزار مہاجرین سو سے زائد ٹرینوں میں سوار ہو کر جرمنی میں داخل ہوئے ہیں۔