1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین خطرہ نہیں، ترقی کے لیے چیلنج ہیں، پوپ فرانسس

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ مہاجرین یورپ کی ثقافت کے لیے خطرہ نہیں ہیں بلکہ ترک وطن معاشروں کی نمو کے لیے ایک چینلج ہے۔

یہ بات پوپ فرانسس نے اطالوی دارالحکومت روم میں روما ترے یونیورسٹی کے ایک دورے کے دوران کہی۔ جمعہ 17 فروی کو اس دورے کے دوران وہ نور عیسیٰ نامی خاتون شامی مہاجر  سے بھی ملے۔ نور عیسیٰ، ان کے شوہر اور ان کے بچے کو پوپ فرانسس گزشتہ برس 16 اپریل کو اطالوی جزیرے لیسبوس کے دورے کے بعد اپنے ساتھ روم لے آئے تھے۔

اس کے بعد نور عیسٰی حکومتی اسکالرشپ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں اور اب وہ روما ترے یونیورسٹی میں بائیالوجی کے شعبے میں اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں اور اپنے اس نئے ملک میں مہاجرین کے حقوق کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔

روما ترے یونیورسٹی میں ہونے والی تقریب کے دوران نور عیسٰی نے پوپ فرانسس سے ان خدشات کے بارے میں استفسار کیا کہ شامی اور عراقی تارکین وطن سے یورپ کے مسیحی ثقافت کو خطرات لاحق ہیں۔ جواب میں پوپ نے اپنے آبائی ملک ارجنٹائن کے بارے میں کہا کہ وہ تارکین وطن کا ملک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگوں کے خاتمے سے مہاجرین کی یورپ آمد کا سلسلہ تھم جائے گا۔

Griechenland Syrische Flüchtlinge steigen mit dem Papst ins Flugzeug (Reuters/F. Monteforte)

پوپ لیسبوس سے اپنے ساتھ مہاجرین کے تین خاندانوں کو ساتھ روم لے گئے تھے

پوپ کے مطابق، ’’ترک وطن خطرہ نہیں ہے۔ یہ آگے بڑھنے کے لیے ایک چیلنج ہے۔‘‘ پوپ کا مزید کہنا تھا کہ یورپی ملکوں کو نہ صرف تارکین وطن کو خوش آمدید کہنا چاہیے بلکہ انہیں معاشرے میں ضم بھی کرنا چاہیے۔

پوپ کے مطابق، ’’وہ اپنے ساتھ ثقافت لاتے ہیں، ایک ایسی ثقافت جو ہمارے لیے بھر پور ہے۔ اور انہیں بھی ہماری ثقافت کو قبول کرنا چاہیے اور ثقافتوں کا تبادلہ ہونا چاہیے۔‘‘ پوپ فرانسس کا کہنا تھا، ’’احترام کریں اور اس سے خدشات دور ہوتے ہیں۔‘‘

نور عیسیٰ اور ان کا خاندان شام میں جاری خانہ جنگی سے جان بچا کر لیسبوس پہنچا تھا جہاں انہیں مہاجرین کے ایک کیمپ میں رہتے ہوئے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ پوپ فرانسس اپنے دورے کے دوران انہیں اپنے ساتھ روم لے گئے تھے۔ پوپ لیسبوس سے اپنے ساتھ مہاجرین کے تین خاندانوں کو ساتھ روم لے گئے تھے اور یہ تینوں خاندان مسلمان تھے۔ پوپ کے اس فیصلے کو مذہبی رواداری کی ایک علامت قرار دیا گیا تھا۔

نور عیسٰی نے جمعہ 17 فروری کو روما تے یونیورسٹی میں ہونے والی تقریب کے دوران پوپ فرانسس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری زندگیاں ایک ہی دن میں تبدیل ہو گئیں۔ آپ کا شکریہ!‘‘