1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین خطرہ نہیں بلکہ خطرے میں ہیں، پوپ فرانسس

پوپ فرانسس نے سینکڑوں بچوں کے ساتھ ملاقات میں ایک انتہائی جذباتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مہاجرین خطرہ نہیں بلکہ خطرے میں ہیں‘۔ اس موقع پر انہوں نے دہرایا کہ عالمی برداری کو دل کھول کر مہاجرین کی مدد کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ویٹی کن کے حوالے سے بتایا ہے کہ کتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے ہفتے کے شام ویٹی کن میں سینکڑوں بچوں سے ملاقات کی۔

ان بچوں میں نائجیریا سے تعلق رکھنا والا ایک ایسا بچہ بھی شامل تھا، جس کے والدین یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

پوپ فرانسس نے بچوں سے یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر کی ہے، جب اسی ہفتے لیبیا سے اٹلی پہنچنے کی کوشش میں سینکڑوں مہاجرین اور تارکین وطن سمندر برد ہو گئے ہیں۔

یونیسف کے مطابق اٹلی کی سمندری حدود میں ہفتے کے دن جن 45 مہاجرین کی لاشیں ملی ہیں، ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ یورپی بحریہ نے گزشتہ سات دنوں میں سمندر میں بھٹکتے ہوئے چودہ ہزار مہاجرین کو بچایا بھی ہے۔

ویٹی کن نے بتایا ہے کہ جن بچوں سے پوپ نے ملاقات کی ہے، ان میں زیادہ تر اطالوی تھے۔ لیکن ساتھ ہی مہاجر بچوں کو بھی خصوصی طور پر ویٹی کن لایا گیا تھا۔

نائجیریا کا اوُسینڈے نامی بچہ ، جس کے والدین سمندر برد ہو چکے ہیں، کو ایک اطالوی کنبے نے گود لیا ہے۔ وہ پوپ کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات میں لائف جیکٹ بھی ساتھ لے کر گیا تھا، جو اسے ایک اطالوی ساحلی محافظ نے دی تھی، تاکہ وہ ڈوبنے سے بچ سکے۔

Papst Franziskus trifft Flüchtlingskinder

بچوں نے اپنی پینٹنگ سے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے اپنی سمجھ بوجھ کا اظہار بھی کیا

پوپ فرانسس نے اس بچے سے ملاقات کے بعد کہا، ’’یہ بچہ میرے لیے یہ لائف جیکٹ لایا ہے۔ وہ رو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ فادر میں ناکام ہو گیا ہوں کیونکہ سمندر میں مجھ سے چھوٹی ایک بچی بھی ڈوب رہی تھی لیکن میں اسے نہ بچا سکا۔۔۔ اس چھوٹی سی بچی کا نام کیا تھا، مجھے معلوم نہیں۔ وہ اب جنت پہنچ چکی ہے۔ آئیں آنکھیں بند کریں اس بچی کو یاد کریں اور اسے کوئی نام دے دیں۔‘‘

یورپ کو درپیش مہاجرین کی بدترین بحران کی وجہ سے نہ صرف حکومتیں بلکہ عوام بھی تحفظات کا شکار ہو چکی ہے۔ کئی ممالک نے تو مہاجرین کی آمد کو روکنے کی خاطر خصوصی انتظامات بھی کر لیے ہیں۔

اس صورتحال میں پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین پر اپنے دروازے بند نہیں کرنا چاہییں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مہاجرین خطرہ نہیں ہیں بلکہ وہ تو خود خطرے میں ہیں۔