1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین جرمنی میں کام کرنا کب شروع کر سکتے ہیں؟

جرمنی میں مہاجرین کو کوئی روزگار ملنے کا انحصار ان کے پاس موجود رہائشی اجازت نامے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ اس ملک میں آمد کے فوری بعد مہاجرین کو جو عبوری رہائشی اجازت نامے ملتے ہیں، ان کے تحت روزگار کی ممانعت ہوتی ہے۔

جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن جب متعلقہ حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کراتے ہیں، تو انہیں ابتدائی طور پر صرف تین ماہ تک عارضی قیام کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان عبوری رہائشی اجازت ناموں کی مختلف اقسام ہیں لیکن ایسی سبھی دستاویزات میں پہلی سہ ماہی کے دوران ہر تارک وطن کے جرمنی میں مالی ادائیگی کے عوض کوئی بھی کام کرنے پر پابندی ہوتی ہے۔

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

تاہم اگر سیاسی پناہ کی درخواست پر بعد میں مثبت فیصلہ ہو جائے اور رہائش کا عبوری اجازت نامہ بھی موجود ہو تو اس صورت میں ایسے تارکین وطن بلدیاتی سطح پر غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے نگران مقامی محکمے یا ’فارنرز آفس‘ (Ausländerbehörde) سے کوئی اضافی اجازت لیے بغیر بھی جہاں موقع ملے، کوئی ملازمت وغیرہ شروع کر سکتے ہیں۔

دوسری صورت میں اگر کسی مہاجر کی سیاسی پناہ کی درخواست پر ابھی کوئی فیصلہ نہ کیا گیا ہو، یا اسے صرف ایک سرکاری دستاویز کے طور پر Duldung جاری کی گئی ہو، جس کا مطلب ’tolerated presence‘ ہوتا ہے، تو قانون کے مطابق ایسے کسی تارک وطن کو کوئی بھی ملازمت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے، جب اسی کام ملازمت کے لیے کسی جرمن اور اس کے بعد کسی یورپی شہری نے کوئی درخواست نہ دے رکھی ہو۔

ویڈیو دیکھیے 05:04

مہاجرین کے لیے ملازمتیں

اگر کوئی تارک وطن جرمنی میں 15 ماہ تک قیام کر چکا ہو، تو پھر ملازمت کے لیے درخواست دہندگان کے طور پر قانوناﹰ کسی جرمن، یورپی یا غیر یورپی امیدوار میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی اور سب کو برابر کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔

’محفوظ ممالک‘ سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے جرمن قوانین دیگر ملکوں کے تارکین وطن سے متعلق ضابطوں سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر جرمنی کی جانب سے 2015ء میں محفوظ قرار دیے گئے ملک کوسووو سے آنے والے کسی تارک وطن کو اس وقت تک اس ملک میں کام کی اجازت نہیں مل سکتی جب تک اس کی پناہ کی درخواست منظور نہ ہو چکی ہو۔ ایسے افراد کو اگر Duldung بھی مل چکی ہو، تب بھی انہیں روزگار کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسی رکاوٹوں کی وجہ سے ہی جرمنی آنے والے بہت سے تارکین وطن غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں۔

پابندیوں کا نتیجہ: غیر قانونی کام

کوسووو سے تعلق رکھنے والے اکیس سالہ تارک وطن الیئر کو بھی یہی دشواری درپیش ہے۔ ایک ’محفوظ ملک‘ سے تعلق ہونے کی وجہ سے اسے جرمنی میں کام کی اجازت نہیں مل سکی اور اب تو اس کی سیاسی پناہ کی درخواست بھی مسترد ہو چکی ہے۔ لیکن ابھی اس کے پاس اگست کے آخر تک جرمنی میں رہنے کا اجازت نامہ موجود ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:23

مہاجر خاندان افغان، مسئلہ مشرقی، مسئلہ مغرب میں

قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث الیئر نے غیر قانونی طور پر تعمیراتی شعبے میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اپنے اس تجربے کے بارے میں اُس کا کہنا ہے، ’’یہ کام میرے مزاج کا نہیں ہے۔ جب میں نے کام کرنا شروع کیا تو شدید گرمی تھی اور میرا بُرا حال ہو گیا تھا۔ لیکن کچھ نہ کرنے کے بجائے غیر قانونی کام کر کے کچھ پیسے کما لینا بھی بہتر ہی ہوتا ہے۔‘‘

الیئر جب اپنی دو بہنوں کے ہمراہ کوسووو سے جرمنی کے سفر پر نکلا تھا تو اس نے سفری اخراجات کے لیے اپنے ایک رشتہ دار سے ساڑھے چار ہزار یورو ادھار لیے تھے۔ سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو جانے کے بعد اب اس کی وطن واپسی تقریباﹰ یقینی ہے۔ وہ اب اس لیے بھی بلا اجازت کام کر رہا ہے کہ وطن واپسی پر اپنا قرض اتار سکے۔

کوسووو کے اس شہری کو جرمنی میں سماجی بہبود کے محکمے کی طرف سے 260 یورو ماہانہ ملتے ہیں اور بلیک مارکیٹ میں کام کر کے وہ مزید آٹھ سو یورو تک بھی کما لیتا ہے۔ الیئر کا کہنا ہے کہ وہ صرف پیسے کمانے کے لیے ہی کام نہیں کر رہا بلکہ پناہ گزینوں کے مرکز میں فارغ بیٹھ بیٹھ کر وہ بیزار بھی ہو جاتا ہے۔ اس غیر ملکی نوجوان کے مطابق، ’’جب میں کام نہیں کرتا تو میں سارا دن بستر ہی میں پڑا رہتا ہوں۔ اسی لیے میری خواہش ہوتی ہے کہ مجھے کوئی نہ کوئی کام مل ہی جائے۔‘‘

جرمنی کے متعدد سرکاری، غیر سرکاری اور نجی کاروباری ادارے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے روزگار کی منڈی تک رسائی میں درپیش رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے جلد اقدامات کرے۔

ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں مہاجرین کے لیے روزگار سے متعلق موجودہ جرمن قوانین میں کوئی ترمیم کر دی جائے یا انہیں نرم بنا دیا جائے، لیکن تب بھی یہ بات تو ضروری ہی ہو گی کہ روزگار کے خواہش مند کسی بھی تارک وطن کو کسی حد تک جرمن زبان بھی آتی ہو اور وہ کوئی نہ کوئی ہنر بھی جانتا ہو۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

DW.COM

Audios and videos on the topic