1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

'مہاجرین‘ جرمنی میں انتخابی مہم کا اہم موضوع

جرمنی میں آئندہ چانسلر کی امیدوار دو بڑی اور اہم جماعتوں کی تیز ہوتی انتخابی مہم کے دوران حالیہ ہفتے کے اختتام پر مہاجرین کے حوالے سے پالیسی اور ڈیجیٹلائزیشن کے موضوعات زیادہ زیر بحث رہے۔

Libanon Feuer in einem Flüchtlingscamp (Reuters/H. Abdallah)

 تارکین وطن کی تقسیم کا معاملہ بھی یورپی یونین ریاستوں کے مابین تناؤ کا سبب رہا ہے

ہفتے کے روز اپنی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو کی انتخابی مہم کے ایک جلسے میں چانسلر میرکل نے ملک میں ایک ایسی مرکزی انٹرنیٹ ویب سائٹ کے قیام کی حمایت میں بات کی جس تک عوام کی رسائی ہو ۔

میرکل نے کہا،’’ چاہے آپ اپنی وفاقی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیں یا پھر صوبائی یا مقامی حکام سے، آپ کی پہنچ  ہر حکومتی سطح تک ہو گی۔ بچوں کی بہبود سے متعلق سہولیات اور متعلقہ  بونس کے لیے درخواستیں اور رہائشی معاملات سب کچھ اس ویب سائٹ کے ذریعے کرنا ممکن ہو گا۔‘‘

میرکل نے تاہم اس منصوبے کے نفاذ کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی کو اس وقت ہر منصوبے کی تفصیلات کو  کمپیوٹرائزڈ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

 دوسری جانب سوشل ڈیمو کریٹ جماعت ایس پی ڈی کے رہنما مارٹن شُلز کا بھی آج بروز اتوار جرمنی کے مستقبل کے لیے اپنی جماعت کا پلان پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ اس منصوبے میں اقتصادی تعاون اور ترقی کی ایک تنظیم کا قیام بھی شامل ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایس پی ڈی کے جرمنی کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل میں مہاجرت سمیت بین الاقوامی معاملات سے نمٹنا بھی شامل ہے۔ اس جماعت نے یورپی یونین میں شامل اُن ممالک کو دیے جانے والے فنڈز روکنے کا وعدہ کر رکھا ہے جو مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

 ایس پی ڈی کے منشور کے مطابق ایسی ریاستوں کو یورپی یونین سے ملنے والی رقوم میں تخفیف کی جائے گی، جو پناہ گزینوں کو اپنے ہاں قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں۔

 تارکین وطن کی تقسیم کا معاملہ بھی یورپی یونین ریاستوں کے مابین تناؤ کا سبب رہا ہے۔ چند ممالک نے اس حوالے سے یورہی یونین کی قراردادوں کو رد کرتے ہوئے چند مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے دیا اور کچھ ریاستوں نے تو ایک مہاجر کو بھی قبول نہیں کیا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic