مہاجرین بھی انسان ہیں، جرمن سیاست دان نے پارٹی چھوڑ دی | مہاجرین کا بحران | DW | 19.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین بھی انسان ہیں، جرمن سیاست دان نے پارٹی چھوڑ دی

جرمنی کی مہاجرین اور مسلم مخالف پارٹی الٹرنیٹیو فار جرمنی کی سیاست دان نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جماعت ہر خرابی کا الزام صرف اور صرف مہاجرین پر ڈال رہی ہے۔

جرمن صوبے باڈن وُرٹمبرگ کی ریاستی پارلیمان کی رکن کلاؤڈیا مارٹن نے ہفتے کے روز پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ الٹرنیٹیو فار جرمنی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے افراد کی ہم دردیاں حاصل کرنے کے لیے ہر خرابی کا ذمہ دار مہاجرین کو قرار دے رہی ہے اور اس سے اس جماعت کو فائدہ بھی ہو رہا ہے۔

انہوں نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ یہ جماعت اب عوام کے لیے دور اندیش سوچ چھوڑ کر صرف اور صرف ووٹ حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے مہاجرین کے خلاف سخت ترین پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کلاؤڈیا مارٹن کا کہنا تھا، ’’مہاجرین بھی انسان ہیں‘‘۔

مارٹن نے اپنی سابقہ جماعت کے سیاست دانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ہر خرابی کا ذمہ دار مہاجرین کو ٹھہرا دیتے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل مارٹن نے اشارہ دیا تھا کہ وہ الٹرنیٹیو فار جرمنی چھوڑ دیں گی۔ یہ بات اہم ہے کہ جنوب مغربی جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ  ہی وہ پہلی جرمن ریاست تھی، جہاں اس جماعت نے پہلی مرتبہ انتخابی کامیابیاں حاصل کیں تھی۔ یہ جماعت اب بھی ریاستی پارلیمان میں سب سے بڑی اپوزیشن قوت ہے۔

رواں برس ہونے والے متعدد صوبائی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی نے نمایاں انتخابی کامیابی حاصل کی ہیں۔ یہ جماعت چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں کی شدید مخالفت کرتی ہے۔

جرمنی کی اہم سیاسی جماعتیں اس پارٹی کی مسلسل بڑھتی ہوئی مقبولیت پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ ابھی چند روز قبل جرمن پارلیمان نے اسی تناظر میں اپنے ایک اعلامیے میں کہا تھا کہ جرمن ثقافت مختلف رنگوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے تنوع سے عبارت ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت اس تنوع کو ختم کر کے تنہائی کا راستہ اپنانا چاہتی ہیں۔