1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین بچوں کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

چیک جمہوریہ کے صدر میلوش زیمان نے اپنے ایک تازہ بیان میں مہاجرین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یورپ میں داخل ہونے کے لیے بچوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ زیمان پہلے بھی مہاجرین مخالف بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

چیک جمہوریہ کے صدر کا کہنا ہے کہ اقتصادی بنیادوں پر نقل مکانی کرنے والے پناہ گزین اپنے ساتھ بچوں کو اس لیے لاتے ہیں تا کہ وہ انہیں یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔ ملکی اخبار کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں زیمان کا کہنا تھا کہ ’’آئی فون کے مالک نوجوان لوگ ان بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘‘۔ زیمان کا مزید کہنا تھا، ’’بچوں کی پیچھے چھپنے والے یہ لوگ میرے خیال میں کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔‘‘

میلوش زیمان چیک جمہوریہ کے پہلے وہ صدر ہیں، جن کا انتخاب بلاواسطہ انتخابات کے ذریعے ہوا تھا۔ وہ 2013ء سے اقتدار میں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تارکین وطن ’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان بچوں کے ڈوب جانے کا اندیشہ ہے، انہیں ربڑ کی کشتیوں کے ذریعے لے کر آتے ہیں۔‘‘

اس سے پہلے اپنے ایک بیان میں زیمان نے کہا تھا کہ، ’’وہ (مہاجرین) اسلامی قوانین کا نفاذ چاہیں گے اور عورتوں کو زنا کے نام پر سنگسار کرنے جبکہ چوروں کے ہاتھ کاٹ دینے کی حمایت کریں گے۔‘‘ جب کہ گزشتہ ہفتے ہی انہوں نے کہا تھا، ’’ہم خواتین کی خوبصورتی سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ انہیں سر سے پاؤں تک برقعوں میں چھپا دیا جائے گا۔‘‘

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید رعد الحسین نے زیمان کے ’اسلاموفوبیا‘ پر مبنی بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ حسین نے پراگ حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ وہ مہاجرین کو ’زلت آمیز حالات‘ میں نوے دن کی حراست میں رکھ کر انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

حسین کے بیان کے بعد صدر زیمان نے اتوار کو انہیں دعوت دی ہے کہ وہ چیک جمہوریہ آ کر حراستی مراکز اور کیمپوں میں پناہ گزینوں کی صورت حال کا خود جائزہ لیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یورپ آنے والے زیادہ تر مہاجرین اقتصادی وجوہات کی بنا پر نقل مکانی نہیں کر رہے بلکہ وہ حقیقی مہاجرین ہیں اور اسی لیے پناہ کے مستحق ہیں۔ میلوش زیمان اس بات سے متفق نہیں ہیں اور ان کے خیال میں زیادہ تر مہاجرین اقتصادی وجوہات کی بنا پر یورپ آ رہے ہیں۔

DW.COM