1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین اپنے اہلخانہ کو جرمنی لا سکیں گے یا نہیں؟

حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے فیصلہ کن اجلاس میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں۔ جرمنی میں موجود مہاجرین اپنے اہلخانہ کو بھی یہاں لا سکیں گے یا نہیں؟ اس حوالے سے ممکنہ اتحادی جماعتوں میں شدید اختلاف ہیں۔

جرمنی میں حکومت سازی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں لیکن ایک موضوع کے حوالے سے چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی سیاسی جماعت یونین اور گرین پارٹی میں شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں اور وہ موضوع جرمنی میں موجود مہاجرین اور ان کے اہلخانہ کا ہے۔

انگیلا میرکل کے سیاسی اتحاد کے سربراہ فولکر کاؤڈر کا کہنا تھا کہ جن مہاجرین کو دوسرے درجے کی سیاسی پناہ فراہم کی گئی ہے، وہ اپنے اہلخانہ کو جرمنی لانے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب وفاقی پارلیمان کی نائب صدر کلاؤڈیا روتھ کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہوگا۔

جرمنی میں ایسے مہاجرین کی تعداد انتہائی کم ہے، جنہیں اول درجے میں رکھتے ہوئے سیاسی پناہ فراہم کی جاتی ہے۔ شام کے بھی زیادہ تر زیادہ تر مہاجرین کو دوسرے درجے کی سیاسی پناہ فراہم کی گئی ہے۔

فولکر کاؤڈر کا جرمن ٹیلی وژن اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’دوسرے درجے کی سیاسی پناہ ملتے ہی لاکھوں شامی مہاجرین کا اپنے اہلخانہ کو جرمنی بلانے کا حق ختم ہو جاتا ہے اور اس قانون کو ایسا ہی رہنا چاہیے۔‘‘ اسی بات پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صرف ان مہاجرین کو ہی اپنے اہلخانہ کو جرمنی بلانے کا حق ہے، جنہیں قانون اس بات کی اجازت فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق دوسرے درجے کے سیاسی مہاجرین کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔

اس کے برعکس گرین پارٹی کی رکن روتھ کا کہنا ہے، ’’اپنی فیملی کے ساتھ رہنا ایک بنیادی حق ہے اور یہ جرمنی کی ہر ایک فیملی کے لیے ایک ہونا چاہیے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’مہاجرین کا اپنے اہلخانہ کو بلانا گرین پارٹی کا مرکزی موضوع تھا اور ایسا کرنا مہاجرین کے انضمام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔‘‘

حکومت سازی کے لیے جرمن جماعتوں سی ڈی یو، سی ایس یو، ایف ڈی پی اور گرین پارٹی میں مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت سازی کے لیے ضروری ہے کہ یہ جماعتیں مختلف موضوعات پر اتفاق کرتے ہوئے تمام معاملات طے کریں۔ فولکر کاؤڈر کا امید ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لیا جائے گا۔

DW.COM