1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین اٹلی آئے تو ساتھ بیماریاں بھی لائے، اطالوی میڈیا

 مہاجرین کی خبروں کی یورپی ویب سائٹ انفو میگرانٹ کے مطابق ایک چار سالہ اطالوی بچی کی ملیریا کے باعث موت ہونے کے بعد اٹلی کے چند ذرائع ابلاغ  کی جانب سے مہاجرین پر اپنے ساتھ امراض اٹلی لانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اطالوی اخبار ’لبرو‘ نے اپنی چھ ستمبر کی اشاعت میں ایک رپورٹ کو اس شہ سرخی کے ساتھ پیش کیا،’’ غربت کے بعد وہ بیماریاں بھی لے آئے۔ مہلک بیماریوں میں مبتلا مہاجرین انفیکشن پھیلا رہے ہیں۔‘‘ روم کے روزنامے’ 11 ٹیمپو‘ نے لکھا،’’ تارکین وطن کا ملیریا‘‘

اس قسم کی خبروں سے اٹلی کی نیشنل یونین آف جرنلسٹ نے غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

'جھوٹی خبریں‘

مرنے والی اطالوی بچی نے ملیریا کی وبا پائے جانے والے ممالک کی طرف سفر نہیں کیا تھا بلکہ وہ بریشا کے ایک ہسپتال میں ذیابیطس کے علاج کی غرض سے داخل ہوئی تھی۔

اسی ہسپتال میں ایک خاندان جو حال ہی میں افریقی ملک برکینا فاسو سے واپس آیا تھا، ملیریا کا علاج کروا رہا تھا اور شائد یہی اخبار کی ہیڈ لائن کی وجہ بنی۔

اٹلی میں صحافیوں کی یونین اور نیشنل ایسوسی ایشن آف جرنلسٹ کے مطابق،’’ غیر ملکیوں کے خلاف سنسنی پھیلانے والی اور بے بنیاد خبروں کی اشاعت صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور یہ بے وجہ کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔‘‘

عدالت سے رجوع پر غور

اٹلی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر کچھ تنظیمیں مہاجرین کے خلاف مذکورہ خبریں شائع کرنے پر عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ اٹلی میں مہاجرین کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کارٹا دی روما‘ کے سربراہ گیووانی ماریا بیلو نے انفو میگرانٹ کو بتایا،’’ انفیکشن کے ایک کیس کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مہاجرین مہلک امراض اپنے ساتھ لائے ہیں۔ یہ با لکل جھوٹی خبر ہے۔‘‘      

DW.COM

Audios and videos on the topic