1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرین اور مسلمان مخالف جرمن پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ

جرمنی کی مہاجرین اور مسلم مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ یا AfD کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات ایک تازہ سروے اور حال ہی میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے بھی واضح ہوئی ہے۔

کیا AfD جرمنی کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن سکتی ہے؟

آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ یا AfD نامی سیاسی جماعت کی مقبولیت جانچنے کے لیے جرمن ریاستی براڈکاسٹر ARD کی طرف سے کرائے جانے والے ایک سروے کے نتائج جمعہ 23 ستمبر کو منظر عام پر آئے۔ ان نتائج کے مطابق اگر ملک میں وفاقی انتخابات ابھی کرائے جائیں تو محض تین برس قبل وجود میں آنے والی یہ جماعت 16 فیصد تک ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔ مہاجرین اور مسلمان مخالف اس جماعت کی مقبولیت کی یہ اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔ اس مہینے جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں اس جماعت نے توقعات سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس سروے کے مطابق AfD گرینز کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے جرمنی کی تیسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر اُبھر کر سامنے آ سکتی ہے۔

کیا AfD آئندہ برس مجوزہ وفاقی انتخابات میں حکومت میں بھی آ سکتی ہے؟

فی الحال اس بات کا امکان دکھائی نہیں دیتا کہ یہ جماعت حکومت میں بھی آ سکتی ہے۔ تازہ سروے کے جو نتائج سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت CDU، 32 فیصد ووٹ حاصل کرے گی جبکہ ان کی اتحادی جماعت CSU، 22 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔ اس طرح اس اتحاد کو مجموعی طور پر 54 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ شرح حکومت بنانے کے لیے کافی ہو گی۔ یہ بات البتہ یقینی نظر آ رہی ہے کہ AfD ریاستی اسمبلیوں کے علاوہ وفاقی اسمبلی میں بھی نمائندگی حاصل کر لے گی۔

اس مہینے جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں اس جماعت نے توقعات سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے

اس مہینے جرمنی کی دو ریاستوں میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں اس جماعت نے توقعات سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے

کیا جرمن عوام میں مسلمانوں اور تارکین وطن کی مخالفت بڑھ رہی ہے؟

مہاجرین اور مسلمان مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کی مقبولیت کی بڑی وجہ مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد دائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کے خیالات ہیں۔ ان کو تحفظات ہیں کہ اس سے جرمنی کا طرز معاشرت بدل سکتا ہے اور جرمنوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔ AfD کو ووٹ ملنے کی ایک وجہ بھی دراصل چانسلر میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی بنی۔ AfD کو رواں ماہ برلن سمیت دو ریاستوں میں نمائندگی تو مِل گئی مگر کوئی بھی سیاسی جماعت اسے بطور اتحادی اپنے ساتھ ملانے کو تیار نہیں ہے۔