1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرین اور دہشت گردی میں تعلق ہے، چیک صدر

چیک جمہوریہ کے صدر نے یورپ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کو مہاجرین کے بحران سے منسوب کیا ہے۔ ان کے بقول یورپی یونین کے کوٹہ سسٹم کے تحت چیک جمہوریہ میں مہاجرین کو رضا کارانہ طور پر پناہ نہیں دی جانا چاہیے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے چیک جمہوریہ کے صدر میلوس زیمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں اور مہاجرین کے بحران میں ایک واضح تعلق ہے۔ اپنے کرسمس کے پیغام میں انہوں نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’آج کل کسی کو بھی اس بارے میں شک نہیں ہے کہ مہاجرین کی یورپ آمد اور یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کا آپس میں تعلق ہے۔‘‘

مہاجرین سے متعلق پالیسی: میرکل اور یورپی رہنماؤں کی ملاقات

مہاجرین کو روکنے کے لیے ہنگری کو قلعہ بنا دیں گے، اوربان

میرکل مہاجرین دوست پالیسی پر ’یو ٹرن‘ لے چکیں، گابریئل

زیمان نے کہا کہ چیک جمہوریہ میں ایسے حملوں کے سدباب کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین کو پناہ نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پراگ حکومت کو یورپی یونین کے اس کوٹہ سسٹم کے تحت مہاجرین کو ملک میں آباد نہیں کرنا چاہیے، جس کے تحت تمام رکن ممالک میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کی بات کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ اس لیے تجویز کیا گیا تھا کہ اس حوالے سے کسی ایک ملک پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

تاہم چیک جمہوریہ کے علاوہ ہنگری بھی یورپی یونین کے اس منصوبے کے خلاف ہے۔ میلوس زیمان نے البتہ کہا کہ انہیں مہاجرین کی مدد کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراگ حکومت ایسے افراد کی ان کے آبائی ممالک یا ہمسایہ ریاستوں میں ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیک جمہوریہ کو اٹلی اور یونان میں بھی مہاجرین کو مدد فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

Tschechien Milos Zeman Staatspräsident (Getty Images/AFP/M. Cizek)

چیک صدر میلوس زیمان کی حکومت مہاجرت مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے

تاہم میلوس زیمان نے واضح کیا کہ ’مسلمان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا مطلب ہو گا کہ ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے‘۔ کئی یورپی ممالک میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلمان مہاجرین یورپی اقدار اور سماج کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان بھی ایسے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو پناہ دینے سے یورپ کی تاریخی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمنی میں انیس دسمبر کو برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک حملے کے باعث یورپی سکیورٹی کو لاحق خطرات پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنی فراخ دلانہ مہاجر پالیسی کے باعث زیر تنقید ہیں جبکہ نہ صرف اپوزیشن پارٹیاں بلکہ ان کی قیادت میں قدامت پسند حکومتی اتحاد بھی اس تناظر میں برلن حکومت سے سخت موقف کا متقاضی نظر آتا ہے۔

DW.COM