1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاجرين کے ليے يورپی يونين کے مزيد اقدامات درکار، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل نے يورپی يونين کی طرف سے شامی مہاجرين کے ليے ايک بلين يورو کی اضافی امداد کا خير مقدم کيا ہے تاہم ان کا يہ بھی کہنا ہے کہ مہاجرين کی مختلف ملکوں تک منتقلی کے ليے مزيد اقدامات کی ضرورت ہے۔

بان کی مون نے چوبيس ستمبر کو برسلز ميں منعقدہ يورپی يونين کے سربراہی اجلاس ميں کيے جانے والے اس فيصلے کو ’درست سمت ميں ايک قدم‘ قرار ديا تاہم انہوں نے مزيد کہا کہ موجودہ بحران اور لوگوں کو اپنے ملکوں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والے تنازعات کے حل کے ليے مزيد کوششوں کی ضرورت ہے۔ سکریٹری جنرل کا يہ بيان نيو يارک ميں اقوام متحدہ کے ہيڈکوارٹرز سے ان کے ترجمان نے جمعرات اور جمعے کی درميانی شب جاری کيا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز يعنی چوبيس اگست کو بيلجيم کے دارالحکومت ميں ہونے والی ايک ہنگامی سمٹ ميں يورپی سربراہان نے لبنان، ترکی اور اردن ميں موجود لاکھوں شامی مہاجرين کے ليے ايک بلين يورو کی اضافی امداد فراہم کرنے کا فيصلہ کيا۔ اس سربراہی اجلاس سے قبل يورپی يونين کے وزرائے خارجہ نے يونان اور اٹلی ميں موجود 120,000 مہاجرين کو آئندہ دو برسوں کے دوران مختلف يورپی ممالک منتقل کرنے پر بھی اتفاق کر ليا تھا۔

بيان کے مطابق بان کی مون نے يورپی رہنماؤں پر زور ديا ہے کہ وہ اس بات کو يقينی بنائيں کہ مہاجرين کی يورپ آمد کے وقت ان کے ساتھ باوقار اور انسان دوست طريقہ اختيار کيا جائے اور يورپ ميں سياسی پناہ کے متلاشی ہزارہا خواتین، بچوں اور مردوں کی درخواستيں جمع کرانے کے مرحلے کو بھی آگے بڑھايا جائے۔

اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل نے اٹھائيس رکنی يورپی بلاک پر زور ديا کہ مہاجرين اور سياسی پناہ کے متلاشی افراد کے ليے قانونی اور محفوظ راستے فراہم کرنے کے معاملے پر غور کيا جائے تاکہ وہ جرائم پيشہ نيٹ ورکس کے شکنجے ميں پھنس کر خطرناک راستے اختيار نہ کريں۔ انہوں نے يہ بھی کہا کہ يورپی اور ديگر ممالک عارضی رہائش گاہوں اور کيمپوں ميں مقيم مہاجرين کو منتقل کرنے کے ليے اضافی مقامات مہيا کريں۔

شام ميں چار سال سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی کے سبب کئی ملين شامی باشندے مشرق وسطی کے ملکوں ميں عارضی رہائش گاہوں اور کيمپوں ميں وقت گزارنے سميت پيدل چل کر يورپ کا رخ کرنے پر مجبور ہو چکے ہيں۔