1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کے ليے فرانس کا نيا ’ايکشن پلان‘

فرانسيسی وزير اعظم نے مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے ليے ايک نئے داخلی ’ايکشن پلان‘ کا اعلان کيا ہے جس ميں پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کی مدت کم کرنا شامل ہے۔

فرانس ميں اب سياسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کم وقت ميں مکمل کی جائے گی، ساتھ ہی معاشی مقاصد کے ليے ترک وطن کرنے والوں کی ملک بدری کے عمل کو بھی تيز تر کر ديا جائے گا۔ اس بارے ميں فرانسيسی وزير اعظم ايڈورڈ فيلیپے نے بدھ 12 جولائی کو مہاجرين کے بحران سے نمٹنے کے ليے ايک نئے ’ايکشن پلان‘ کے بارے ميں اعلان کرتے وقت بتايا۔ فيليپے کے بقول نئی حکمت عملی کے ذريعے مستحق افراد کو قانونی طور پر پناہ مل سکے گی اور بڑی تعداد ميں تارکين وطن کی آمد کے مسئلے سے بھی زيادہ کارآمد انداز سے نمٹا جا سکے گا۔

گزشتہ برس فرانس ميں جمع کرائی جانے والی سياسی پناہ کی درخواستوں کی مجموعی تعداد پچاسی ہزار تھی۔ مہاجرين کے بحران کی اس صورتحال سے نمٹنے کے ليے موجودہ نظام کو فرانسيسی صدر امانوئل ماکروں نے ’قابو سے باہر‘ قرار ديا ہے۔ علاوہ ازيں فرانس ميں موجود مہاجرين کو مناسب سہوليات اور رہائش کی عدم دستيابی کے سبب امدادی تنظيميں بھی پيرس حکومت کو تنقيد کا نشانہ بناتی رہی ہيں۔

بدھ بارہ جولائی کے روز نئے ايکشن پلان کا اعلان کرتے ہوئے وزير اعظم فيليپے نے کہا کہ انسانی تقاضوں کا خيال رکھتے ہوئے مستحق پناہ گزينوں کی مدد اور معاشی مہاجرين کے ليے سخت پاليسی دونوں کا بيک وقت خيال رکھا جانا ضروری ہے۔ ان کے بقول فرانس ميں اس وقت موجود چاليس فيصد پناہ گزين رہائش کی مناسب سہولت سے محروم ہيں۔ تازہ اعداد و شمار کے تحت فرانس ميں اس وقت تارکين وطن کے ليے اسی ہزار گھر موجود ہيں جن ميں آئندہ دو برسوں ميں ساڑھے بازہ ہزار  کا اضافہ کيا جائے گا۔ علاوہ ازيں سياسی پناہ کی درخواست پر کارروائی کی مدت کو بھی چودہ ماہ سے گھٹا کر اب چھ ماہ کر ديا گيا ہے۔

دريں اثناء فرانسيسی وزير اعظم نے يہ بھی واضح کيا کہ معاشی مقاصد يا وجوہات کی بناء پر غير قانونی انداز ميں يورپ پہنچنے والوں کو فرانس میں پناہ ملنے کا کوئی امکان نہيں اور انہيں ملک بدر کيا جائے گا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات