1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کے ليے ايک اور در بند

يورپی رياست چيک جمہوريہ نے پناہ گزينوں کی رکن ممالک ميں تقسيم کے حوالے سے يورپی يونين کی اسکيم سے دستبردار ہونے کا اعلان کر ديا ہے۔ پراگ حکومت نے اس اقدام کی وجہ ملکی سلامتی سے متعلق خدشات بتائی ہے۔

چيک جمہوريہ نے يورپی يونين کی اسکيم کے تحت يونان اور اٹلی ميں موجود تارکين وطن کو سکيورٹی خدشات کی بناء پر اپنے ملک ميں پناہ دينے سے انکار کر ديا ہے۔ پراگ حکومت نے یہ فیصلہ پير کے  روز کيا۔

يورپ کو درپيش مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں سن 2015 ميں يورپی يونين نے ايک اسکيم کو حتمی شکل دی تھی جس کے تحت 160,000 پناہ گزينوں کو باقاعدہ ايک کوٹے کے تحت رکن ملکوں ميں قانونی انداز سے بسايا جانا تھا۔ اس اسکيم پر ابتداء ہی سے کئی ممالک کو تحفظات تھے جب کہ چند نے تو سرے سے ہی اس پر عمل در آمد سے انکار کر ديا تھا۔ يورپی بلاک کے مقرر کردہ کوٹے کے مطابق چيک ری پبلک کو اپنے ہاں 2,691 مہاجرين کو پناہ دينی تھی۔ تاہم چيک نيوز ايجنسی سی ٹی کے کے مطابق تاحال وہاں صرف ايک درجن تارکين وطن کو ہی پناہ دی گئی ہے۔

رواں سال ستمبر ميں مہاجرين کی تقسيم سے متعلق يورپی اسکيم کی مدت ختم ہو رہی ہے اور چيک وزير داخلہ ميلان خووانيٹس نے اعلان کيا ہے کہ اب ان کا ملک مزيد ايک بھی تارک وطن کو پناہ نہيں دے گا۔ گزشتہ روز پراگ ميں منعقدہ ملکی کابينہ کے ايک اجلاس کے بعد پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خووانيٹس نے کہا، ’’سلامتی کی ابتر صورت حال اور پورے کے پورے نظام کے ناقص انداز ميں چلنے کے سبب حکومت نے اس اسکيم پر عملدرآمد روکنے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ وزير داخلہ کا مزيد کہنا تھا کہ اس فيصلے کے پيش نظر سامنے آنے والے کسی بھی يورپی ردعمل کا متعلقہ وزارت دفاع کرے گی۔

واضح رہے کہ پولينڈ، ہنگری اور سلوواکيہ اس اسکيم کے تحت کسی بھی تارک وطن کو پناہ دينے سے انکار کر چکے ہيں، حتیٰ کہ سلوواکيہ اور ہنگری کی حکومتوں نے اس سلسلے ميں ايک يورپی عدالت ميں کيس بھی دائر کر رکھا ہے۔ يورپی کميشن اسی ماہ يہ فيصلہ کرنے والی ہے کہ جن ممالک نے منظور شدہ يورپی اسکيم کے تحت مہاجرين کو پناہ فراہم نہيں کی، ان کا کيا ہو گا۔

چيک جمہوريہ ميں اسی سال اکتوبر ميں عام انتخابات ہونے والے ہيں اور وہاں بھی ہجرت اور بالخصوص يورپ کو درپيش مہاجرين کا موجودہ بحران ايک اہم موضوع ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق چيک عوام کی اکثريت مسلمان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن کو اپنے ہاں پناہ دينے کے خلاف ہے۔

سن 2014 اور 2016ء کے درميان مشرق وسطیٰ، ايشيا اور افريقہ سے تقريباً 1.6 ملين تارکين وطن نے سياسی پناہ کے ليے يورپ کا رخ کيا تھا۔ بعد ازاں برسلز اور ترک حکومت کے مابين ايک ڈيل کے بعد اگرچہ ترکی کے راستے غير قانونی ہجرت تقريباً ختم ہو گئی ہے تاہم ليبيا سے اٹلی کے راستے اب بھی تارکين وطن نے يورپ پہنچنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ يورپی يونين کی دو برس قبل طے شدہ ری لوکيشن اسکيم کے تحت 160,000 پناہ گزينوں کو کوٹے کے تحت رکن ملکوں ميں قانونی انداز سے بسايا جانا تھا تاہم ابھی تک اس اسکيم کے ذريعے صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار مہاجرين کو پناہ مل سکی ہے۔

DW.COM