1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مہاجرين کے سبب کاربن گيسوں کے اخراج کے ہدف تک پہنچنا مشکل‘

توانائی سے متعلق پاليسی پر جرمن حکومت کے مشير نے تنبيہ کی ہے کہ اس سال تقريباً ايک ملين پناہ گزينوں کی آمد کے نتيجے ميں کاربن گيسوں کے اخراج کے 2020ء کے ليے مقرر کردہ اہداف تک پہنچنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

جرمنی اپنے آپ کو موسمياتی تبديليوں کے مضر اثرات کے خلاف جاری عالمی کوششوں ميں ايک ليڈر کی حيثيت سے ديکھتا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ اس يورپی رياست نے اپنے ہاں 1990ء کے مقابلے ميں 2020ء تک زہريلی کاربن گيسوں کے اخراج ميں چاليس فيصد کمی متعارف کرانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ تاہم ماہرين کا ماننا ہے کہ اس ہدف تک پہنچنا خطرے ميں پڑ گيا ہے۔ اس کی ايک وجہ جرمنی کا کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس پر دارومدار ہے جبکہ دوسری وجہ گزشتہ سال طے ہونے والے ايک منصوبے پر عملدرآمد ميں تاخير ہے۔

جرمن يونيورسٹی آف ميونسٹر ميں توانائی اور ريسورس کی اقتصاديات کے ايک پروفيسر آندرياس لوشل کہتے ہيں کہ توقع سے کہيں زيادہ ميں مہاجرين کی آمد کا معاملہ اس ہدف کو حصول کو مزيد پيچيدہ بنا رہا ہے۔ آبادی کے بارے ميں پيش گوئياں مستقبل ميں گيسوں کے اخراج کا اندازہ لگانے ميں اہم کردار ادا کرتی ہيں۔ لوشل کہتے ہيں، ’’اس بارے ميں برلن حکومت کی ابتدائی پيشن گوئياں اب پرانی ہو چکی ہيں۔‘‘

امکانات ہيں کہ سياسی پناہ کے ليے جرمنی پہنچنے والوں کی تعداد سال کے اواخر تک ايک ملين تک پہنچ سکتی ہے۔ ايک اندازے کے مطابق سن 2020 تک جرمنی کی آبادی ميں پہلے سے لگائے جانے والے اندازوں کے مقابلے ميں دو سے ڈھائی ملين کی زيادتی ممکن ہے۔ ماحوليات سے متعلق وزارت کے مطابق آبادی ميں ايک ملين کے اضافے کے نتيجے ميں ضرر رساں کاربن گيسوں کے اخراج ميں سالانہ 6.4 ملين ٹن کا اضافہ ہوتا ہے۔

جرمن وزارت اقتصاديات کی ايک خاتون ترجمان نے بتايا کہ تاحال حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار دستياب نہيں کہ مہاجرين کی آمد سے کاربن گيسوں کے اخراج پر کيا اثرات مرتب ہوں گے۔

پروفيسر آندرياس لوشل کے بقول ان کا تجزيہ حتمی نہيں۔ مثال کے طور پر کم آمدنی والے پناہ گزين عموماً آمد و رفت بھی کم ہی کريں گے ليکن وہ رہائش بھی ايسے مقامات پر کريں گے جہاں عمارات ميں انسوليشن کے ناقص انتظامات کے سبب اخراج کا تناسب زيادہ ہوتا ہے۔ ابھی يہ بھی واضح نہيں کہ کتنے مہاجرين طويل المدتی بنيادوں پر جرمنی ميں قيام کريں گے اور کتنے واپس اپنے ممالک کا رخ کريں گے۔

ملتے جلتے مندرجات