1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کے انضمام کو ممکن بنا کر دکھائيں گے، ميرکل

جرمنی ميں اسلام مخالف تنظيم پيگيڈا کی تازہ ريلی ميں دس سے بارہ ہزار افراد نے شرکت کی۔ قبل ازيں چانسلر انگيلا ميرکل نے جرمن باشندوں کے ساتھ ايک ملاقات ميں کہا کہ جرمنی مہاجرين کے بحران سے قدرے بہتر انداز ميں نمٹ سکتا ہے۔

جرمن چانسلر نے نيورمبرگ شہر ميں شہريوں کے چند نمائندوں کے ساتھ بات چيت کے دوران کہا کہ پناہ گزينوں کے اس بحران سے نمٹنے ميں جرمنی سے غلطياں ہوئی ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’اس معاملے ميں ہماری پاليسی اتنی منظم نہيں، جتنی کہ اسے ہونا چاہيے تھا۔‘‘ چانسلر کے مطابق مہاجرين کی يورپی يونين کے مختلف ممالک ميں منصفانہ تقسيم اور مسلسل آمد کو روکنے کے ليے ترکی کے ساتھ معاہدہ، دونوں ہی معاملات پر تاحال زيادہ پيش رفت نہيں ہو سکی ہے۔ ميرکل کے بقول ان دونوں کے حصول کے ليے کوششيں جاری ہيں۔

بات چيت کے دوران انگيلا ميرکل نے کہا کہ مسئلہ يہ ہے کہ جرمن شہری کہیں يہ نہ سمجھ بيٹھيں کہ يہاں آنے والے پناہ گزينوں کے ساتھ ان سے بہتر برتاؤ کيا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم يہ نہيں ہونے دے سکتے کے پينشن وصول کرنے والے جرمن باشندوں کو یہ محسوس ہونے لگے کے باہر سے آنے والوں کو زیادہ سہولیات اور مراعات مل رہی ہیں اور ايسی صورت ميں لوگوں کے درميان کشيدگی بڑھے گی۔‘‘

جرمن چانسلر نے يہ بھی کہا کہ سیاسی پناہ کے متلاشی ايسے افراد جو اپنے کیس کے مستحق اور مستند ہونے کو ثابت کرنے ميں ناکام رہے، انہيں ملک بدر کيے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس سلسلے ميں مزيد سختی کی جائے گی۔ ان کے بقول اس طرح صرف ان لوگوں کو پناہ فراہم کی جائے گی، جنہيں واقعی پناہ کی ضرورت ہے۔ چانسلر ميرکل نے يہ بھی تسليم کيا کہ تعداد کے اعتبار سے قريب ايک ملين مہاجرين کافی زيادہ ہيں۔ تاہم اس پر ان کا موقف تھا، ’’ہاں، ہاں يہ بہت ہيں۔ ليکن ہم بھی 80 ملين ہيں۔ ہم ان کے انضام کو ممکن بنا سکتے ہيں اور ممکن بنا کر دکھائيں گے۔‘‘

پيگيڈا کی ہفتہ وار ريلی ميں شرکاء کی تعداد میں واضح کمی

دريں اثناء جرمن شہر ڈريسڈن ميں اسلام مخالف تنظيم پيگيڈا کی پير چھبيس اکتوبر کو ہونے والی ريلی ميں تقريباً دس سے بارہ ہزار افراد شريک ہوئے۔ گزشتہ روز ہونے والی ريلی اس تنظيم کے ليے آزمائش کی حيثيت رکھتی تھی کيونکہ پچھلی ريلی کے دوران ايک اسپيکر نے سابقہ نازی دور کے عظيتی مراکز کی بندش پر افسوس کا اظہار کيا۔ يہ بيان کافی متنازعہ ثابت ہوا۔ پيگيڈا کی پچھلی ريلی ميں پندرہ سے بيس ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ اس بار اس میں شرکاء کی تعداد مقابلتاً خاصی کم رہی۔