1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کی حد مقرر کی جائے يا نہيں؟

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے چيف آف اسٹاف پُر اعتماد ہيں کہ مخلوط حکومت ميں شامل قدامت پسند جماعتوں کے مابين مہاجرين سے متعلق پاليسی کے حوالے سے اختلافات پر آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات سے قبل قابو پا ليا جائے گا۔

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کے ايک قريبی ساتھی اور مہاجرين سے متعلق امور کے نگران پيٹر آلٹمائر نے کہا ہے کہ وہ کافی پُر اعتماد ہيں کہ کرسچن ڈيموکريٹک يونين (CDU) اور کرسچن سوشل يونين (CSU) کے درميان پائے جانے والے اختلافات آئندہ چند ہفتوں ميں دور ہو جائيں گے۔ آلٹمائر نے جرمن نشرياتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کے دوران يہ بات کہی۔ انہوں نے کہا، ’’سمجھوتے کے امکانات اس ليے کافی اچھے ہيں کيونکہ يورپی يونين اور ترکی کے مابين طے پانے والی ڈيل پر عملدرآمد کے بعد اپريل سے جرمنی آنے والے پناہ گزينوں کی تعداد ميں خاطر خواہ کمی ريکارڈ کی گئی ہے۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ مہاجرين کی حد مقرر کرنے سے متعلق اختلاف خود بخود حل ہو سکتا ہے۔‘‘

چانسلر ميرکل کی سياسی جماعت کرسچن ڈيموکريٹک يونين کی صوبہ باويريا ميں ہم خیال اور اتحادی پارٹی کرسچن سوشل يونين کے سربراہ ہورسٹ زيہوفر اس بات کے حق ميں ہيں کہ جرمنی ميں پناہ کے متلاشی افراد کی حد مقرر کی جائے۔ وہ چاہتے ہيں کہ سالانہ دو لاکھ مہاجرين کو ہی پناہ دی جائے۔ اس کے برعکس عوامی سطح پر اپنی مقبوليت ميں مسلسل کمی کے باوجود ميرکل ايسے کسی بھی اقدام کی مخالف ہيں۔

کوليشن حکومت کے ايک ذرائع کے مطابق اتوار گيارہ ستمبر کے روز ميرکل اور زيہوفر کے مابين ملاقات تعميری رہی تاہم دونوں رہنما کسی حتمی نتيجے پر نہيں پہنچ سکے۔ يہ اطلاع بھی ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بعد ازاں نائب چانسلر اور سوشل ڈيموکريٹس کے ليڈر زيگمار گابريئل سے بھی ملاقات کی تاہم اس ملاقات ميں مہاجرين کا موضوع زير بحث نہيں آيا۔

سی ايس يو چانسلر ميرکل کی مہاجرين سے متعلق پاليسی کی ايک عرصے سے مخالفت کرتی آئی ہے۔ جماعت کے رہنما ہورسٹ زيہوفر نے چند روز قبل ہی يہ بيان بھی ديا تھا کہ اگر دونوں اتحادی جماعتوں نے مہاجرين سے متعلق پاليسی کے حوالے سے اپنے باہمی اختلافات دور نہ کيے، تو انہيں آئندہ انتخابات ميں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کرسچن سوشل يونين کے سربراہ ہورسٹ زيہوفر

کرسچن سوشل يونين کے سربراہ ہورسٹ زيہوفر

جرمنی ميں ايک ہفتہ قبل میکلن بُرگ ویسٹرن پومیرینیا ہونے والے علاقائی اليکشن ميں کرسچن ڈيموکريٹک پارٹی تيسرے نمبر پر رہی جبکہ مہاجرين مخالف سياسی جماعت ’جرمنی کے ليے متبادل‘ (AfD) دوسرے نمبر پر آئی۔ آئندہ ہفتے دارالحکومت برلن ميں بھی اليکشن ہونے والے ہيں اور امکان ہے کہ وہاں بھی يہ جماعت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات