1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کی تقسيم کے معاملے پر پولينڈ اور يورپی کميشن مد مقابل

پولينڈ نے يورپی کميشن سے درخواست کی ہے کہ مہاجرين کے کوٹے کے تحت رکن ممالک ميں تقسيم مسترد کرنے کے سبب اس کے خلاف قانونی کارروائی ترک کر دی جائے۔ پولش وزارت خارجہ کے بقول وہ اس کيس کے خلاف لڑنے کے ليے بھی تيار ہے۔

وارسا حکومت نے اس بارے ميں تيئس اگست کو جاری کردہ اپنے بيان ميں کہا ہے کہ مہاجرين کے تقسيم کے سلسلے ميں پولينڈ کے خلاف قانونی کارروائی ترک کرنے کی درخواست يورپی کميشن کو باقاعدہ طور پر بھيج دی گئی ہے۔ تاہم بيان ميں يہ تنبيہ بھی کی گئی ہے، ’’اگر قانونی کارروائی جاری رہی، تو پولينڈ يورپی عدالت برائے انصاف ميں اپنے موقف کے دفاع کے ليے تيار ہے۔‘‘

يورپی کميشن نے رواں سال جولائی ميں پولينڈ، چيک جمہوريہ اور ہنگری کی حکومتوں سے باقاعدہ طور پر درخواست کی تھی کہ وہ ہجرت سے متعلق يورپی قوانين اور کوٹے کے تحت پناہ گزينوں کی منصفانہ تقسيم کی ڈيل پر عملدرآمد کريں۔ يہ امر اہم ہے کہ يورپی کميشن نے مہاجرين کی منصفانہ بنيادوں پر تقسيم کے ليے ايک اسکيم ترتيب دی تھی، جس کے تحت مہاجرين کو کوٹے کے تحت رکن ملکوں ميں پناہ فراہم کی جانی تھی۔ تاہم پولينڈ، چيک جمہوريہ اور ہنگری اس اسکيم کے خلاف ہيں۔    

پولينڈ کی حکمران ’لاء اينڈ جسٹس پارٹی‘ بارہا اس يورپی اسکيم پر تنقيد کرتی آئی ہے۔ بدھ کو پولش وزير داخلہ نے کہا کہ در اصل يہ اسکيم يورپ کے ليے خطرناک ہے۔ ماريوش بواشچک نے اپنے موقف کی وضاحت کے ليے پيرس، اسٹاک ہوم، برسلز، مانچسٹر، برلن اور بارسلونا کا ذکر کيا، جہاں دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہيں۔ انہوں نے سوال اٹھايا، ’’کتنے يورپی شہروں کو نشانہ بننا پڑے گا، اس سے قبل کہ يورپی يونين اپنی نيند سے اٹھے؟‘‘ ان کے بقول يورپ آنے والے تارکين وطن کو ’اندھا دھند‘ تسليم کرنا درست نہيں۔

DW.COM