1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کا بحران: متعلقہ حکام اور رضا کار بھی الجھن کا شکار

ليبيا کے کوسٹ گارڈز نے مہاجرين کی ايک کشتی کو روکتے ہوئے واپس ليبيا بھيج ديا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ جس وقت انہوں نے مداخلت کی، اس وقت کشتی پر سوار مہاجرين کو ايک بحری جہاز يورپ کے سفر کے ليے لے جانے والا تھا۔

ساحلی نگرانی پر مامور لیبیا کے حکام نے جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’سی واچ‘ پر دخل اندازی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ  لیبیا کے کوسٹ گارڈز جب  ایک کشتی پر سوار پانچ سو مہاجرین کو لیبیا واپس لانا چاہتے تھے، تو ’سی واچ‘ کے کارکنان اِن مہاجرین کو یہ کہتے ہوئے اپنے جہاز پر چڑھانے کی کوشش کرنے لگے کہ لیبیا محفوظ ملک نہیں ہے۔ طرابلس ميں کوسٹ گارڈز کے ترجمان نے بتايا کہ يہ واقعہ ليبيا کے ساحل سے قريب تيس کلوميٹر شمال کی طرف بدھ کے روز پيش آيا۔

دوسری جانب جرمن تنظیم ’سی واچ‘ نے کہا ہے کہ لیبیا کے کوسٹ گارڈز نے ان کی امدادی کشتی پر تقریباً چڑھائی کر دی تھی۔ ’سی واچ‘ نے اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ در اصل يہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بحران سے نمٹنے والے رضاکاروں، غير سرکاری تنظيموں کے اہلکاروں اور ديگر متعلقہ حکام ميں الجھن کا عنصر بھی پايا جاتا ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ يورپ تک پہنچنے کے ليے مہاجرين اور پناہ گزين آج کل اکثريتی طور پر ليبيا کا راستہ اختيار کرتے ہيں۔ بحرہ روم کے راستے مہاجرين کی بڑی تعداد ميں آمد کے سبب اطالوی حکومت دباؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ برس 181,000 سے زائد مہاجرين اٹلی پہنچے تھے۔ نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق اس سال اب تک اس تعداد ميں چاليس فيصد کا اضافہ ريکارڈ کيا گيا ہے۔

DW.COM