1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کا بحران : جرمن اتحادی جماعتوں ميں بالآخر اتفاق رائے

جرمنی ميں مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتوں کے مابين کافی بحث و مباحثے کے بعد بالآخر پناہ گزينوں کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے ايک معاہدے پر اتفاق ہو گيا ہے۔

نيوز ايجنسی روئٹرز کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے جمعرات کے روز ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فريقين کے مابين بات چيت ميں اچھی پيش رفت ہوئی ہے۔ کرسچن ڈيموکريٹک يونين (CDU)، کرسچن سوشل يونين اور (CSU) اور سوشل ڈيموکريٹس (SPD) کے رہنماؤں کے درميان پچھلے ہفتے ان مذاکرات کا پہلا دور بے نتيجہ رہا تھا۔

رواں سال جنوری سے اکتوبر تک جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ قبل ازيں يہ اندازہ لگايا گيا تھا کہ سال رواں کے اختتام تک اتنے مہاجرين يہاں پہنچيں گے۔ مہاجرين کی اتنی بڑی تعداد ميں آمد کے سبب مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتوں سی ڈی يو، سی ايس يو اور ايس پی ڈی کے مابين اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ رياست باويريا کی جماعت سی ايس يو مہاجرين کی آمد کے سلسلے کو روکنے کے ليے سخت تر اقدامات کی خواہاں ہے جبکہ سوشل ڈيموکريٹس اس سلسلے ميں نرم حکمت عملی حاہتے ہيں۔ اس صورتحال کے سبب حکومت پچھلے کچھ دنوں سے شديد دباؤ کا شکار تھی۔

رواں سال جنوری سے اکتوبر تک جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے

رواں سال جنوری سے اکتوبر تک جرمنی پہنچنے والے پناہ گزينوں کی تعداد آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے

فريقين کے مابين پانچ نومبر کے روز ہونے والی بات چيت ميں جرمنی ميں سياسی پناہ کے ليے ’غير مستحق‘ سمجھے جانے والے مہاجرين کو خصوصی مراکز ميں رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ چانسلر ميرکل نے بتايا کہ معاہدے کے تحت ’محفوظ‘ قرار ديے جانے والے ملکوں سے تعلق رکھنے والے تارکين وطن، تعاون نہ کرنے والے اور دوسری مرتبہ سياسی پناہ کی درخواست دينے والوں کو خصوصی مراکز ميں رکھا جائے گا۔

’محفوظ‘ قرار ديے جانے والے ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرين کی سياسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کافی تيز ہو گی اور ناکامی کی صورت ميں ان کی فوری ملک بدری ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ فريقين نے اس پر بھی اتفاق کر ليا ہے کہ جن مہاجرين کی سياسی پناہ کی درخواست پر کارروائی جاری ہو، اس دوران انہيں اپنے اہل خانہ کو بھی يہاں بلانے کی اجازت نہيں۔

ايس پی ڈی کے رہنما اور نائب چانسلر زيگمار گابريئل نے بعد ازاں کہا کہ وہ خوش ہيں کہ طے شدہ معاہدے ميں ايسے علاقوں کا قيام شامل نہيں جنہيں حراستی مراکز کے مساوی سمجھا جائے۔ گابريئل دراصل سی ايس يو کے ’ٹرانزٹ زونز‘ کے قيام کے مطالبے کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جس کے وہ سخت ناقد رہے ہيں۔ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ميرکل اور گابريئل دونوں نے مہاجرين کے بحران کی حقيقی وجوہات کا حل تلاش کرنے، يورپی يونين کی بيرونی سرحدوں کی حفاظت اور اس موضوع پر ترکی کے ساتھ اضافی بات چيت کی ضرورت پر زور ديا۔