1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين کا بحران : اب باڑ کس يورپی ملک کی سرحد پر لگے گی؟

چيک جمہوريہ ميں آج چند وسطی يورپی رياستوں کے رہنماؤں کا ايک اجلاس ہو رہا ہے، جس ميں ہنگری کے وزير اعظم کی جانب سے يونان کی مقدونيہ اور بلغاريہ سے ملنے والی سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق متنازعہ منصوبے پر بات چيت ہو گی۔

ہنگری کے وزيراعظم وکٹور اوربان کے خيال ميں يونان کی مقدونيہ اور بلغاريہ سے ملنے والی سرحد پر باڑ لگا دينی چاہيے۔ اُن کے بقول يہ اقدام اِس ليے ناگزير ہے کيونکہ يونان جنوبی يورپ کا دفاع نہيں کر سکتا، جہاں سے شام اور عراق سے ہزاروں کی تعداد ميں پناہ گزين يورپ پہنچ رہے ہيں۔

وکٹور اوربان کے اس منصوبے پر آج بروز پير چيک جمہوريہ کے دارالحکومت ميں پراگ میں تفصيلی بات چيت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ پراگ ميں ميزبان ملک چيک جمہوريہ، ہنگری، پولينڈ اور سلوواکيہ پر مشتمل ’ویزےگراڈ‘ نامی گروپ کے رہنماؤں کا ايک غير رسمی اجلاس منعقدہ ہو رہا ہے۔ رکن ممالک کو قريب لانے اور اُن کے درميان انضمام بڑھانے کے مقصد سے اِس گروپ کا قيام تقريباً پچيس برس قبل ہوا تھا۔ آج يہ چاروں ملک يورپ ميں ايک مخصوص تعداد سے زائد تارکين وطن کو پناہ دينے کے سخت مخالف کرتے ہوئے اس معاملے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

پراگ ميں قائم ايک تھنک ٹينک ايسوسی ايشن فار انٹرنيشنل افيئرز سے وابستہ ايک تجزيہ کار وٹ دوستال کے مطابق، ’’يونان کے بلغاريہ اور مقدونيہ سے ملنے والے بارڈر پر يورپی دفاع کی ايک لائن تعمير کرنے سے متعلق منصوبہ ویزےگراڈ گروپ کی جانب سے خارجہ پاليسی کا ايک حصہ ہے اور اس کا مقصد بلاک ميں گروپ کو ايک سياسی قوت کے طور پر منوانا ہے۔‘‘

ہنگری کے وزير اعظم اوبان اور بلغاريہ کے وزير اعظم بوئيکو بوريسوف

ہنگری کے وزير اعظم اوبان اور بلغاريہ کے وزير اعظم بوئيکو بوريسوف

پراگ ميں آج ہونے والے اجلاس ميں چيک جمہوريہ، ہنگری، پولينڈ اور سلوواکيہ کے رہنماؤں کے علاوہ مقدونيہ کے صدر گیورگے آيوانوف اور بلغاريہ کے وزير اعظم بوئيکو بوريسوف بھی شرکت کر رہے ہيں تاکہ يونان کی شمالی سرحد پر اضافی اقدامات پر بات چيت ہو سکے۔ مقدونيہ کی جانب سے اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا کام گزشتہ برس نومبر ميں شروع کر ديا گيا تھا اور اب اس باڑ کے ساتھ ہی ايک اور باڑ نصب کی جا رہی ہے۔

پراگ ميں وسطی يورپی ممالک کے يہ رہنما ايک متحد اور سخت پوزيشن اختيار کرنے کی کوشش کريں گے۔ بعد ازاں اسی ہفتے جمعرات اور جمعے کو يورپی يونين کا ايک اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس ميں مہاجرين کے بحران اور برطانيہ کے يورپی يونين کے ساتھ تعلقات پر بات چيت متوقع ہے۔

پولينڈ کے انسٹيٹيوٹ برائے بين الاقوامی امور کے ايک تجزيہ نگار داريوس کالان کے مطابق ویزےگراڈ گروپ بذات خود يورپی اتحاد کو کمزور یا توڑنے کی پوزیشن میں نہيں تاہم مہاجرين کے معاملے پر وکٹور اوربان کے موقف کو بر اعظم يورپ کے دائيں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے ساتھ ساتھ مرکزی دھارے کی سياسی جماعتوں ميں بھی مقبوليت حاصل ہو رہی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات