1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرين سے لدی کشتيوں کو واپس بھيج دينا غير قانونی ہے، رپورٹ

ايک تازہ رپورٹ ميں يہ انکشاف کيا گيا ہے کہ پناہ گزينوں کی جانب سے خطرناک سمندری راستے اختيار کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کے ليے ساحلوں سے ان کی کشتيوں کو واپس کر ديا غير قانونی فعل ہے۔

مختلف ممالک کے ساحلوں اور بندرگاہوں پر پہنچنے والی پناہ گزينوں سے لدی کشتيوں کو واپس کر دينے کی پاليسی بين الاقوامی قوانين کی خلاف ورزی ہے۔ يہ بات آسٹريلوی شہر سڈنی ميں پناہ گزينوں سے متعلق بين الاقوامی قوانين پر نظر رکھنے والے ’اينڈرو اينڈ ريناٹا سينٹر‘ نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنی ايک تازہ رپورٹ ميں کہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق آسٹريليا اور چند يورپی رياستوں کی جانب سے اپنائی جانے والی ايسی پاليسيوں کی قانونی حيثيت واضح نہيں اور نہ ہی ان پر طويل المدتی بنيادوں پر عمل درآمد ممکن ہے۔

اس رپورٹ کی مصنفہ پروفيسر وايوليٹا مورينو ليکس کا کہنا ہے کہ مہاجرين کی حوصلہ شکنی اور ان کی راہ ميں رکاوٹيں کھڑی کرنے کی پاليسيوں سے جانيں بچتی نہيں بلکہ ان کی وجہ سے جنگ و جدل اور مظالم سے فرار ہونے والے افراد کے ليے مزيد دشوارياں پيدا ہو جاتی ہيں۔ ان کے بقول ايسی پاليسيوں سے مہاجرين کا بحران مزيد شدت تو اختيار کر سکتا ہے ليکن اس کا حل ممکن نہيں۔

رپورٹ ميں لکھا ہے کہ يورپی يونين اور آسٹريليا کی جانب سے اپنائی جانے والی يہ پاليسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ’اينڈرو اينڈ ريناٹا سينٹر‘ کی رپورٹ ميں مزيد کہا گيا ہے کہ مہاجرين کے بحران کے حل کے ليے ’عسکری پاليسياں‘ ترک کر کے انسانی بنيادوں پر امداد کی ايک جامع پاليسی اپنائی جانی چاہيے۔ مصنفہ پروفيسر وايوليٹا مورينو ليکس کے مطابق ايسی پاليسيوں کی غير واضح قانونی حيثيت کے باوجود اس ضمن ميں با معنی بحث کا مکمل فقدان ’سب سے زيادہ پريشان کن‘ بات ہے۔

آسٹريلوی حکام نے مہاجرين کی کشتيوں کو واپس کرنے کا عمل ايک باقاعدہ آپريشن کے تحت سن 2013 ميں شروع کيا تھا۔ اس وقت سے اب تک تيس کشتيوں کو واپس کيا جا چکا ہے اور حکام دعویٰ کرتے ہيں کہ ان کی ايسی کارروائيوں کے نتيجے ميں تاحال کوئی مہاجر ہلاک نہيں ہوا۔ يہ امر اہم ہے کہ سن 2001 سے سن 2013 کے درميان تقريباً دو ہزار پناہ گزين سمندری راستوں سے آسٹريليا تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ رپورٹ ميں يورپی ايجنسيوں کو بھی تنقيد کا نشانہ بنايا گيا ہے۔ مسودے کے مطابق انسانی جانيں بچانے کے دعوے کے باوجود يورپی ريسکيو ايجنسيوں کی توجہ بارڈر سکيورٹی اور غير قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

2000ء کے آغاز سے اب تک تقريباً چھياليس ہزار افراد سمندروں ميں ہلاک ہو چکے ہيں، جن میں اکثريت پناہ گزين تھے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات