1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرت: یونان سے زیادہ تعاون کیا جائے، بان کی مون

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برداری کو یورپ کی مدد کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونان اس بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کو اکیلا سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اٹھارہ جون بروز اتوار ایتھنز میں صحافیوں کو بتایا کہ یونانی حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

DW.COM

یونانی جزیرے لیسبوس روانہ ہونے سے قبل انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی مسائل کے باوجود ایتھنز نے اس تناظر میں یورپ کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔

بان کی مون نے کہا، ’’یونان کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے اکیلا ہی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یونانی وزیراعظم الیکسس سپراس سے ملاقات کے بعد مزید کہا کہ عالمی برادری کو مل کر ایسے عوامل کا سدباب کرنا چاہیے، جو مہاجرت کی وجہ بن رہے ہیں۔

بان کی مون نے اپیل کی کہ یونان میں مہاجرین کے بحران کے حل کی خاطر یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک بھی بڑا کردار ادا کریں۔ گزشتہ برس ترکی سے بحیرہ ایجیئن کے راستے دس لاکھ افراد سے زائد افراد یونانی ساحلوں پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس دوران سینکڑوں افراد سمندر برد بھی ہوئے۔

بان کی مون اتوار کی شام لیسبوس کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ مہاجرین سے بھی ملیں گے۔ یورپی یونین اور ترکی کے مابین مارچ میں طے پانے والی ایک متنازعہ ڈیل کے تحت یونان میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ لیکن اب بھی یونانی جزیروں پر آٹھ ہزار چار سو مہاجرین موجود ہیں۔ ایتھنز حکومت کے مطابق یہ سبھی سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

علاوہ ازیں یونان کے خشک جغرافیائی علاقوں پر اڑتالیس ہزار مہاجرین بھی موجود ہیں۔ وسطی اور شمالی یورپی ممالک جانے کے خواہش مند یہ مہاجرین و تارکین وطن بھی یونان میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ بلقان ریاستوں نے اپنی سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔ یہ افراد بلقان کی ریاستوں سے گزر کر ہی آگے دیگر یورپی ممالک جا سکتے ہیں۔

Griechenland Besuch UN Generalsekretär Ban Ki-moon mit Alexis Tsipras

یونانی وزیر اعظم سپراس علامتی طور پر بان کی مون کو لائف جیکٹ بھی تحفے میں دی

یونانی وزیراعظم کے مطابق ان کی حکومت نے ان مہاجرین کو ملک میں آنے کی اجازت دے کر ایک بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا لی ہے اور اب وہ دیگر یورپی ممالک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس بوجھ کا باٹنے میں ایتھنز کی مدد کریں گے۔ بان کے مون کے ہم راہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دہرایا کہ یونان اس بحران کو اکیلے حل کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اس موقع پر سپراس نے اس بحران کی شدت کے اظہار کے طور پر علامتی طور پر بان کی مون کو لائف جیکٹ بھی تحفے میں دی۔ سپراس نے کہا کہ ان کی حکومت امید کرتی ہے کہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والی ڈیل کا احترام کیا جائے گا تاکہ اس بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔