1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرت: کتنے بچے مارے جائیں گے؟

تین سالہ ایلان کردی اور چار سالہ عُمران کی تصاویر نے شام کی ہولناک خانہ جنگی کو عالمی منظر نامے پر اجاگر کر دیا ہے لیکن ایسے کئی بچے ہیں، جنہیں میڈیا کی توجہ تو نہ ملی لیکن وہ زندگی کے خواب لیے بن کھلے ہی مرجھا گئے۔

آج بھی ایک آٹھ ماہ کی بچی کی ہلاکت کی خبر شہ سرخیوں میں ہے۔ مہاجرت کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں عالمی برادری اپنے محدود وسائل پر چراغ پا ہے۔

یورپی ممالک انتظامی مسائل اور اختلافی امور کو سلجھانے کی کوشش میں ہے لیکن دوسری طرف خانہ جنگی، شورش اور تنازعات کے شکار ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈالے امن ڈھونڈنے کی کوشش میں ہیں۔

امن و سکون کی تلاش میں ایک اور شامی بچی لیبیا کی ساحلی حدود میں اس وقت ڈوب کر ہلاک ہو گئی، جب اس کے گھر والے اس بچی کے ہمراہ ایک روشن اور تابناک مستقبل کے لیے ایک خستہ کشتی کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔

لیکن یہ کشتی انہیں یورپ پہنچانے سے قبل ہی سمندری لہروں سے جنگ ہار کر ڈوب گئی۔ گزشتہ روز اس کشتی کے حادثے میں مجموعی طور پر چھ مہاجرین ہلاک ہوئے۔ اس حادثے میں ایک پانچ سالہ بچی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی جبکہ ایک لڑکے کو بچا لیا گیا۔

Omran Daqneesh Aleppo verletzter Junge

چار سالہ شامی بچے عُمران کی تصویر بھی مہاجرت کے بحران کی نئی علامت بن گئی ہے

ریڈ کراس اور مائیگرنٹ آف شور ایڈ اسٹیشن MOAS کے بحری ریسکیو مشن ’فونیکس‘ نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کی لاشوں کو ڈھونڈ لیا گیا ہے لیکن ایک ابھی تک لاپتہ ہے۔

خدشہ ہے کہ یہ سمندر برد ہو چکی ہے۔ امدادی کارکنوں نے البتہ اکیس مہاجرین کو بچا لیا۔ بتایا گیا ہے کہ ستائیس شامی مہاجرین اس کشتی میں سوار تھے۔

مالٹا میں قائم امدادی ادارے MOAS کی شریک بانی ریگینا کاٹرابورن نے شامی مہاجرین کی ان تازہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرت کے اس بحران کے نتیجے میں ہزاروں بچے بھی مارے جا رہے ہیں، ’’یہ انتہائی پریشان کن ہے کہ لوگ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو رہے ہیں۔ بالخصوص اتنی چھوٹی بچی کا یوں مارا جانا انتہائی غم کا باعث ہے۔‘‘

ریگینا کاٹرابورن نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو مل کر اس بحران پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ شمالی افریقہ اور ترکی سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس سمندری راستوں سے یورپ پہنچنے والے مہاجرین میں ستائیس فیصد بچے ہی تھے۔

تین سالہ شامی ایلان کردی کی لاش کی تصویر نے عالمی برادری میں ایک بھونچال کر دیا تھا جبکہ آج کل چار سالہ شامی بچے عُمران کی تصویر بھی مہاجرت کے بحران کی نئی علامت بن گئی ہے۔

EINSCHRÄNKUNG IM TEXT BEACHTEN! Dieses Bild soll nur als Artikelbild zum Kommentar des Chefredakteurs gebucht werden Türkei Bodrum Aylan Kurdi

تین سالہ خوار ایلان کردی کی لاش کی تصویر نے عالمی برادری میں ایک بھونچال کر دیا تھا

نئی جاری کردہ تصاویر اور فوٹیج میں حلب کا رہائشی یہ بچہ زخمی حالت میں اگرچہ گم سم اور خاموش ہے لیکن اس کے تاثرات نے کچھ کہے بغیر ہی جنگ کی بہیمانہ کارروائیوں اور تشدد کے رازوں کو فاش کر دیا ہے۔

رواں برس کے دوران یونان یا اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تین ہزار سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد پچاس فیصد زائد بنتی ہے۔

DW.COM