1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرت کا جھانسا دے کر جسم فروشی پر مجبور کر دیا

آسٹریائی پولیس کے مطابق انسانوں کے اسمگلروں نے ایک سو پچاس چینی خواتین کو آسٹریا میں منتقل کیا، جہاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ کچھ خواتین نے یورپ پہنچنے کی خاطر ان اسمگلروں کو فی کس دس ہزار یورو بھی ادا کیے تھے۔

خبررساں ادارے ڈی پی اے نے آسٹریائی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرائم پیشہ منظم اسمگلروں نے ان چینی خواتین کو جھانسا دیا تھا کہ جب وہ آسٹریا پہنچ جائیں گی تو انہیں میساج سینٹرز میں بطور آیا ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔

مہاجر عورتیں، بہتر مستقبل کا خواب سے جنسی غلامی تک

مہاجر عورتوں اور لڑکیوں کو تشدد کا سامنا، ایمنسٹی انٹرنیشنل
فرانس میں لاوارث مہاجر بچے، ’جنسی زیادتی، استحصال کے خطرات‘

لوئر آسٹریئن پولیس اتھارٹی کی طرف سے چودہ نومبر بروز پیر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ گرفتار شدگان کا تعلق چین سے ہی بتایا گیا ہے۔

ڈی پی اے نے پولیس کے حوالے سے مزید بتایا کہ جب یہ خواتین ویانا ایئر پورٹ پہنچیں تو اسمگلر ان کا سامان اور سفری دستاویزات لے کر غائب ہو گئے، جہاں اس گینگ کے دیگر چینی ارکان نے ان خواتین کو مدد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ انہیں رہائش بھی فراہم کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ ان خواتین کو ہوٹل پہنچایا گیا تو انہیں معلوم ہوا کہ انہیں خود کو مہاجر کے طور پر اندارج کرانا ہو گا۔ بعد ازاں ان خواتین کو ویانا کے قحبہ خانوں اور دیگر مقامات پر جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا رہا۔

Slowenien Parlament stimmt Einsatz der Armee an der Grenze zu (Reuters/L. Foeger)

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو مہاجرین کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے

پولیس نے بتایا ہے کہ اس گینگ نے ان خواتین کو مزید ایک ایک ہزار یورو ادا کرنے کو کہا تاکہ ان کی پناہ کی درخواستوں پر عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے اور ان کا باقاعدہ طبی معائنہ کرایا جا سکے۔ یہ امر اہم ہے کہ آسٹریا میں جسم فروش خواتین کے پاس صحت مند ہونے کا سرٹیفیکٹ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ویانا پولیس کے مطابق اس گینگ کے بارے میں اس محکمے نے پتا لگایا، جو جسم فروش خواتین کے بزنس کو مانیٹر کرتا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس انکشاف کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ کم ازکم چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق ان گرفتاریوں سے اس گینگ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔

DW.COM