1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

مہاجرت اور اسلام مخالف مظاہرہ، پندرہ جرمن پولیس اہلکار زخمی

جرمن صوبے تھیورنگیا میں اسلام اور مہاجرت مخالف مظاہرین کی ایک ریلی میں تشدد بھڑکنے کی وجہ سے پندرہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ اس دوران متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

Brennende Autos am Rande der Pegida-Demonstration

جرمنی میں اس طرح کے مظاہرے پہلے بھی ہو چکے ہیں

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کی رات صوبے تھیورنگیا کے شہر ژینا میں اسلام مخالف اور غیرملکیوں کے خلاف نکالی جانے والی ایک ریلی تشدد کا رنگ اختیار کر گئی، جس کی وجہ سے پندرہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

DW.COM

اسلام اور مہاجرت مخالف تحریک پیگیڈا کی طرز کے علاقائی گروہ تھیوگیڈا کی طرف سے اہتمام کردہ اس ریلی میں لوگوں نے جرمن حکومت کی اس پالیسی کا تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت جرمنی میں مہاجرین کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔

اسی وقت ژینا میں تھیوگیڈا کے مخالف بائیں بازو کے افراد نے بھی ایک ریلی کا اہتمام کر ر کھا تھا۔ یہ مظاہرین مہاجرین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو کے عناصر کی مذمت کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق تشدد اس وقت بھڑکا جب تھیوگیڈا کے حامیوں اور اُن کی مخالف ریلی کے مظاہرین کے مابین تصادم ہوا۔ اس دوران کچھ مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور ایک دوسرے پر بوتلیں بھی پھنکیں۔

ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس تشدد میں کوئی شہری زخمی ہوا ہے یا نہیں۔ اس دوران متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جن میں سے تین پولیس کی گاڑیاں بھی تھیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ژینا میں منعقد ہوئی اس ریلی میں کم ازکم دو سو افراد نے شرکت کی۔ دائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے اِن مظاہرین کا کہنا ہے کہ برلن حکومت کو مہاجرین کو پناہ نہیں دینا چاہیے۔

ان کا کہنا کہ مسلمان مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دینے سے جرمن معاشرہ ’اسلامائزئشن‘ کا شکار ہو جائے گا۔

Köln Pegida Polizei Pfefferspray

پولیس کے مطابق متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے

پولیس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران دونوں ریلیوں میں شامل متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پیپر سپرے کا استعمال بھی کیا۔ بتایا گیا ہے کہ 35 افراد کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے کیس درج کیے گئے ہیں۔

جرمنی میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کی وجہ سے کئی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ جرمنی کے مختلف صوبوں میں اس طرح کا تشدد پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے۔ تاہم برلن حکومت مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کی سابقہ پالیسی پر برقرار ہے۔