1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مہاتر محمد نے حکمران جماعت کو خیرباد کہہ دیا

ملائیشیا کے مقبول رہنما مہاتیر محمد نے حکمران جماعت UMNO کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ سابق وزیراعظم کے مطابق حکمران یونائیٹڈ ملائیز نیشنل آرگنائزیشن موجودہ وزیراعظم کی کرپشن کی حمایت کی مرتکب ہوئی ہے۔

default

مہاتیر محمد (ہیٹ پہنے ہوئے) اپنے مداحوں کے ہمراہ

یونائیٹڈ ملائیز نیشنل آرگنائزیشن کو خیرباد کہنے کے بیان میں سابق وزیراعظم اور بزرگ سیاستدان نے کہا کہ یہ پارٹی اب اپنی اصل شناخت سے محروم ہو چکی ہے اور یہ نجیب رزاق کی ذاتی سیاسی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے بھی کہا کہ انہیں اِس بات پر پریشانی و پشیمانی کا سامنا ہے کہ وہ یونائیٹڈ ملائیز نیشنل آرگنائزیشن کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں جو کرپشن کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مہاتیر محمد کے مطابق انہیں حکمران سیاسی جماعت کی رکنیت رکھنے پر بھی شرمندگی ہو رہی تھی اور اِسی احساس کے تحت وہ پارٹی کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔

ملائیشیائی سماجی و سیاسی معاشرے میں سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انتہائی قدر و منزلت سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن کی سیاسی، و معاشرتی آراء کا احترام تقریباً سبھی حلقے کرتے ہیں۔ ریاستی فنڈ میں پائی جانے والی مالی بدعنوانی پر وہ اِن دنوں موجودہ وزیراعظم نجیب رزاق کے کھلے ناقد بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم رزاق کو بھی فرسٹ ملائیشین ڈیویلپمنٹ برحارڈ (1Malaysia Development Berhad) کے استعمال میں پائی جانے والی کرپشن پر اندرونِ ملک شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

Malaysia Premierminister Najib Abdul Razak

وزیراعظم نجیب رزاق کو پارٹی منحرفین اور اپوزیشن کے دباؤ کا سامنا ہے

مہاتیر محمد کے پارٹی چھوڑنے پر وزیراعظم کے دفتر سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نوے برس کے مہاتیر محمد کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملائیشیا کے طویل عرصے تک رہنے والے وزیراعظم ہیں۔ وہ سن 1981سے سن 2003 تک منصبِ وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہ چکے ہیں۔ پارٹی چھوڑنے کے بیان میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کوئی نئی سیاسی جماعت نہیں بنائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ مہاتیر محمد نے یہ ضرور کہا کہ اب اُن کی کوشش ہو گی کہ نجیب رزاق اِس ملک کے مزید وزیراعظم نہ رہیں۔

مہاتیر محمد سے پوچھا گیا کہ کیا اور لوگ بھی حکمران جماعت سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی مرضی و منشا کا سوال ہے اور اگر وہ حکمران جماعت سے راستے جدا کرتے ہیں تو یہ خوش آئند ہو گا لیکن وہ کسی اور رکنِ جماعت کو پارٹی چھوڑنے کا نہیں کہیں گا۔ دوسری جانب ایسے ظاہر ہوا ہے کہ وزیراعظم نجیب رزاق نے اُن پر کی جانے والی تنقید کے بعد پارٹی کنٹرول کو سخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ نجیب کو پارٹی کے منحرفین اور اپوزیشن کی جانب سے ریاستی فنڈ میں غبن کرنے کے الزام میں منصب سے دستبردار ہونے کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔