1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مکہ کے ایک ہوٹل میں آگ، ڈیڑھ ہزار حاجیوں کا فوری انخلاء

سعودی عرب کے شہر مکہ میں پیر کے روز ایک ہوٹل میں آگ لگنے کے باعث قریب ڈیڑھ ہزار حاجیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکالنا پڑ گیا۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مکہ میں ان دنوں حج کے لیے دنیا بھر سے قریب دو ملین حجاج جمع ہیں۔

مکہ سے پیر اکیس ستمبر کے روز ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ یہ آگ آج طلوع آفتاب سے قبل شہر کے ایک ایسے 15 منزلہ ہوٹل میں لگی، جہاں مجموعی طور پر قریب 1500 حاجی ٹھہرے ہوئے تھے۔

سعودی پریس ایجنسی نے حکام کے حوالے لکھا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس ہوٹل میں یہ آگ بجلی کے نظام میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیدا ہونے والی خرابی کے باعث لگی اور اس واقعے میں صرف چار حجاج زخمی ہوئے، جن کا تعلق یمن سے بتایا گیا ہے۔

اس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے حجاج اس سال حج کے لیے سعودی عرب جانے والے ان قریب دو ملین حاجیوں میں شامل ہیں، جن کی طرف سے مناسک حج کی ادائیگی کا باقاعدہ آغاز کل منگل بائیس ستمبر سے ہو گا۔

اے ایف پی کے مطابق آج ایک ہوٹل میں لگنے والی آگ سے قبل گزشتہ جمعرات کے روز بھی مختلف ایشیائی ملکوں سے تعلق رکھنے والے قریب ایک ہزار حاجیوں کو اس وقت ہنگامی طور پر اپنا ہوٹل خالی کرنا پڑ گیا تھا، جب ان کے بلند و بالا ہوٹل کی عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آتشزدگی کے اس واقعے میں دو انڈونیشی حاجی زخمی ہوئے تھے۔

Saudi Arabien Mekka Moschee Kran Unfall Unwetter

مسجدالحرام کے ایک حصے پر ایک بہت بڑی کرین گرنے کے نتیجے میں کم از کم 108 افراد ہلاک ہو گئے تھے

دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں حجاج کی آمد کے باوجود سعودی عرب کے شہر مکہ میں حج کا سالانہ اجتماع گزشتہ قریب ایک عشرے سے کسی بھی بڑے ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہا تھا۔ اس سال تاہم اسی مہینے کے دوران لیکن حج سیزن کے آغاز سے قبل، جب ہزارہا مسلمان حج کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے تھے، مکہ کی وسیع و عریض مسجدالحرام کے ایک حصے پر ایک بہت بڑی کرین گرنے کے نتیجے میں کم از کم 108 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں اکثریت حج کے لیے آنے والے غیر ملکی مسلمانوں کی تھی۔

DW.COM