1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’مکہ میں ایک گناہ گار‘ ہم جنس پرست حاجی کی دستاویزی فلم

پاکستانی قاتل کا اقبال جرم۔ پُرعزم سیکورٹی اہلکار۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر ایک حاملہ عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے حج کے دوران فلمائی گئی ’مکہ میں ایک گناہ گار‘ نامی اس دستاویزی فلم میں۔

بھارتی نژاد امریکی مسلمان فلم ساز پرویز شرما کی ہدایتکاری میں انگریزی زبان میں بنائی گئی اس دستاویزی فلم ’مکہ میں ایک گناہ گار‘ کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس فلم بنانے کی وجہ سے ہم جنس پرویز کو نہ صرف ہلاک کر دیے جانے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں بلکہ انٹر نیٹ پر ان کے خلاف نفرت آمیز آن لائن مہم بھی شروع کر دی گئی ہے۔ اس فلم میں پرویز اور اس کے امریکی شوہر کی شادی کی تقریب کی فوٹیج بھی شامل کی گئی ہے، جو مسلمانوں کے لیے اگر جارحانہ نہ بھی ہو لیکن اشتعال انگیز ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔

اپنے ہم جنس پرست ہونے کا کھلے عام اعتراف کرنے والے پرویز نے البتہ اس ردعمل کو مذہب اسلام کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’موجودہ صورتحال میں اسلام اندر ہی اندر تباہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ہمیں ایک بڑے بحران کا سامنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں لیکن ان کی رفتار انتہائی سست ہے جبکہ وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔

پرویز شرما کے بقول، ’’وہابی اسلام میں تبدیلی کی زیادہ سخت ضرورت ہے۔ یہی تمام تر برائیوں کی جڑ ہے۔‘‘ پرویز خود کو اسلام کی صوفی روایت سے منسوب کرتے ہیں، جو وہابیت کے کٹر نظریات کے برعکس موسیقی اور صوفیانہ طریقت پر زور دیتی ہے۔ پرویز خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور وہ ہم جنس پرست بھی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مسلمان بھی ہیں۔ تاہم علماء کے بقول مذہب اسلام میں ہم جنس پرستی کی اجازت نہیں ہے۔

پرویز نے 2011ء میں جج کیا تھا، جس دوران انہوں نے اپنی فلم کی عکاسی بھی کی۔ پاکستان میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے چار ماہ اور عرب اسپرنگ شروع ہونے کے سات ماہ بعد حج کرنا پرویز کا دانستہ فیصلہ تھا۔ ان کے بقول وہ سمجھتے تھے کہ مسلم ورلڈ میں ایک نئی تبدیلی کی امید کے وقت حج کرنا ایک اچھا تجربہ ہو گا۔

خفیہ عکاسی

پرویز نے اپنی اس نئی فلم کو آئی فون اور دو چھوٹے کیمروں کی مدد سے شوٹ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سعودی حکام سے اجازت بھی نہیں لی تھی۔ وہ بتاتے ہیں، ’’شروع میں حج کے دوران ترتیب دی جانے والی خصوصی سکیورٹی فورس نے میرا آئی فون چھین لیا۔ انہوں نے میرا تمام ڈیٹا بھی ضائع کر دیا۔‘‘ پرویز کے مطابق، ’’یہ سکیورٹی اہلکار لاٹھیوں سے لیس تھے، وہ کسی بھی ایسے شخص کو پیٹ سکتے تھے، جو ان کے مطابق کسی غیر اسلامی عمل میں ملوث تھا۔ میں کئی مرتبہ ان کا نشانہ بنا۔‘‘

پرویز نے خانہ کعبہ میں اپنے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’غالبا میں نے اپنی زندگی کی سب سے زیادہ پرتشدد ترین رات وہیں گزاری ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا آئی فون اپنے گلے میں لٹکائے فلمسازی کرتے رہے۔ زیادہ تر فلم پرویز پر ہی فلمائی گئی ہے لیکن اس میں دو افراد کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ پرویز کے مطابق انہوں نے اس دوران مجموعی طور پر پچاس حاجیوں کے انٹرویوز کیے۔

Beginn Pilgerfahrt Hadsch in Mekka 01.10.2014

پرویز نے اپنی اس نئی فلم کو آئی فون اور دو چھوٹے کیمروں کی مدد سے شوٹ کیا ہے

اس فلم میں ایک عرب شہری یہ شکایت بھی کرتا ہے کہ اس کی حاملہ اہلیہ کو کسی نے جسمانی طور پر ہراساں کیا۔ پاکستانی شہر لاہور کے ایک شہری کا انٹرویو بھی اس فلم میں شامل کیا گیا ہے، جو اعتراف کرتا ہے کہ وہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کرنے کا مرتکب ہوا ہے اور اس پر اسے بہت زیادہ شرمندگی اور ندامت ہے۔

’مکہ میں ایک گناہ گار‘ نامی اس دستاویزی فلم کو برطانیہ اور شمالی امریکا کے فلم میلوں میں نمائش کے لیے پیش کیا جا چکا ہے لیکن نیو یارک کے سنیما گھروں میں اس فلم کی پہلی نمائش آئندہ جمعے کے دن کی جا رہی ہے۔ آئندہ ماہ اس فلم کو یورپی ٹیلی وژن چینلز اور نیٹ فیلکس پر بھی نشر کیا جائے گا۔ پرویز اس فلم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک مجموعی طور پر انہیں مثبت ردعمل ملا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھ ہی انہیں بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب سے دھمکی آمیز ای میلز بھی موصول ہوئی ہیں۔

اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے اس فلم کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں ایک فلم میلے کے دوران اس فلم کی نمائش پر ایک ایرانی خاتون ان پر چیخ پڑی۔ پرویز کے بقول، ’’میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان آخر کار مثبت ردعمل ظاہر کرنے لگیں گے۔