1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مڈغاسکر : صدر عوامی سیلاب کے سامنے بے بس

سیاحوں کے مرکزِ نگاح جزیرے مڈغاسکر میں سیاسی بحران امکاناً اپنے منطقی انجام کو پہچنے والا ہے۔ سفارتکاروں کے مطابق صدر نے فوجی کی چڑھائی اور عوامی مظاہروں کے تناظر میں سبکدوشی میں بہتری سمجھی ہے۔

default

مڈغاسکر کے مقبول نوجوان لیڈر آندری روژئیلاناا، اپنے حامیوں کے ہمرہ، فتح کا نشان بناتے ہوئے۔

بحر ہند کے پانی میں واقع جزیرہ مڈغاسکر کو پچھلے چند ہفتوں سے شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ نوجوان مقبول لیڈر آندری Rajoelina کو عموماً جانبدار رہنے والی فوج کی حمایت حاصل ہونے کے بعد وہاں کی سیاسی صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اپنے منصب پر ڈٹے رہنے والے صدر Marc Ravalomanana نے اپنا عہدہ چھوڑنے کا اصولی فیصلہ کر کے سیاسی بحران کو ختم کرنے کی راہ دکھا دی ہے۔

Marc Ravalomanana Präsident Madagaskar

مڈغاسکر کے غیر مقبول صدر ریولو منانا ، آخرکار اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

کئی ہفتوں پر محیط سیاسی بحران میں ایک سو پینتیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غیر مقبول ہو جانے والے صدر نے سیاسی بحران کے خاتمے کے لئے ریفرنڈم کی تجویز پیش کی تھی۔ اُن کی یہ تجویز امکاناً تاخیر سامنے آئی تھی کیونکہ اُس وقت اپوزیشن کی جانب سے استعفیٰ دینے کی مہلت بھی ختم ہو چکی تھی۔

اقتدار چھوڑنے والے صدر Marc Ravalomanana نے حکومتی اختیار فوج کے سب سے بڑے افسر وائس ایڈمرل Hyppolite Ramaroson کو ایک ڈگری کے ذریعے تفویض کر دیئے ہیں۔ فوج کے چیف آف سٹاف کرنل Andre Ndrianjaona کے مطابق اگر اختیار فوج کے پاس رہتا ہے تو یہ ایک اور طرح کا بحران بن سکتا ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر کے حق میں ہیں اور انہیں وقم کی قیادت کر نی چاہیئے۔

اپوزیشن لیڈر آندری روژئیلانا عبوری مدت کے دوران امکاناً صدر کے فرائض سرانجام دیں گے۔ اِس کا اعلان اُن کی سیاسی جماعت کی جانب سے بھی سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے مطابق اگلے چوبیس ماہ کے اندر نئے انتخابات کی راہ کو ہموار کرنے کے علاوہ ازسرِنو دستور کا تحریر کرنا بھی اُن کی ترجیحات میں شامل ہے۔

Madagaskar Soldaten

اپوزیشن لیڈر آندری روژئیلاناا کے حامی فوجی دستے دارالحکومت کی سڑکوں پر موجود

اِسی اثنا میں مڈغاسکر میں ایک نئی پیش رفت کے تناظر میں اپوزیشن لیڈر کی حامی باغی افواج نے فوج کے سب سے بڑے افسر وائس ایڈمرل Hyppolite Ramaroson کو چار دوسرے اعلیٰ افسروں کے ہمراہ گرفتار کر لیا ہے۔ اُن کی گرفتاری کی تصدیق اپوزیشن لیڈر آندری روثئیلانا نے کردی ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے فوج کو اقتدر کی منتقلی کو رد کردیا ہے۔ اِس صورت حال میں مڈغاسکر میں انتشار کی کیفیت محسوس کی جا سکتی ہے۔

مڈغاسکر کے دستور کے مطابق ملک کے صدر کی کم از کم عمر چالیس سال ہونا لازمی ہے جب کہ مقبول اپوزیشن لیڈر آندری روژئیلانا ابھی صرف چونتیس برس کے ہیں۔ ابھی بھی مڈغاسکر کا سیاسی منظر نامہ صاف نہیں ہے لیکن آثار ایسے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر آندری روژئیلانا اگلے دِنوں میں اپنی حامی فوج کے ساتھ اقتدار پر کنٹرول کر لیں گے۔

تقریباً سات ہفتوں پر پھیلی اقتدار کی رسہ کشی کا انجام تو فوج کی حرکت سے ظاہر ہو گیا تھا مگر صدر Marc Ravalomanana بدستور اپنے عہدے کو نہ چھوڑنے پر قائم تھے۔ دارالحکومت میں ایک صدارتی رہائش گاہ کے دروازے فوجی ٹینکوں نے اکھاڑ پھینکے تھے۔ اب اُس میں نوجوان سیاستدان آندری Rajoelina براجمان ہو چکے ہیں۔ اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مڈغاسکر کے عوامی لیڈر نے بتایا کہ اُن کے ساتھ صدر Marc Ravalomanana کی کابینہ کے آٹھ وزراء بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ صدر Marc Ravalomanana اپنے ملک کے سیاسی منظر نامے پر تنہا ہو چکے ہیں۔ ملک کی وفادار فوج نے بھی اپوزیشن کا ساتھ دیا ہے۔

Unruhen in Madagaskar

اپوزیشن لیڈر کے حامی: ایک بڑی ریلی میں

افریقی یونین نے بھی اقتدار پر اپوزیشن کے قبضے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ افریقی یونین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اقتدار اپوزیشن لیڈر کو منتقل نہ کرے اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ غیر دستوری قدم ہوگا۔ افریقی یونین کے مطابق وہ مڈغاسکر کی صورت حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔۔ یہ بھی اہم ہے کہ افریقی یونین کا اگلے جولائی منعقدہ سربراہ اجلاس کا میزبان ملک بھی مڈغاسکر ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے صدر ملک چیک جمہوریہ کے وزیر خارجہ Karel Schwarzenberg نے بھی واضح کیا ہے کہ یونین بھی مڈغاسکر میں تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسی غیر دستوری قدم کی حمایت نہیں کرے گی اور اگر ایسا ہوا تو اور اُس کا مؤقف موریطانیہ میں فوجی بغاوت کے بعد جو رویہ اپنایا گیا تھا، اُس جیسا ہوگا۔

غیر مقبول صدرMarc Ravalomanana سن دو ہزار چھ میں دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اُن کے دور میں غیر ملکی سرمایہ کاری خاص طور سے مڈغاسکر کی معدنی دولت کی تلاش میں اضافہ ہوا۔ ملک میں آ نی والی دولت سے غریب عوام کو کسی طور فائدہ نہیں ہو رہا تھا اور اِسی کی بنیاد پر عوامی تحریک نے زور پکڑا۔ مڈغاسکر کی ستر فی صد عوام اب بھی ڈیڑھ ڈالر سے کم آمدن پر یومیہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔