1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مچھلیوں نے زمین پر اپنا پہلا قدم کب رکھا؟

یورپی ملک پولینڈ کے جنوبی علاقے میں ایسے جانوروں کے 395 ملین برس پرانے قدموں کے نشانات ملے ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ زمین پر چلنے والے اولین جانوروں کے قدموں کے نشانات ہیں۔

default

یہ نشان اس سے قبل تک فوصل کی شکل میں ملنے والے سب سے پرانے نشانات سے بھی 18 ملین برس پرانے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نشانات کی یہ دریافت دراصل ارتقائی تبدیلی کے اِس اہم حصے کی وضاحت کرے گی کہ کیسے گلپھڑے رکھنے والی مچھلیوں نے ہوا میں سانس لینا اور اپنے قدموں پر چلنا شروع کیا۔

محققین نے ایسے بہت سے نشانات دریافت کئے ہیں، جو مختلف سائز کے جانوروں کے ہیں اور جو ممکنہ طور پر اُس زمانے میں ایک کیچڑ والے علاقے میں چلنے کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ انہی نشانات میں سے ایسے بھی ہیں، جن کی چوڑائی 26 سینٹی میٹر ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ جس جانور کے قدموں کے نشانات ہیں، اس کی لمبائی 25 میٹر سے کم نہیں ہوگی۔

سائنسی جریدے نیچر "NATURE" میں اس دریافت سے متعلق چھپنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جانور کے ہاتھوں اور پاؤں کے واضح طور پر مختلف نشانات دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ ایسا کوئی نشان نہیں ملا جس سے پتہ چلے کہ وہ جانور اپنے جسم کو زمین پر گھسیٹتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جانور چلتے ہوئے موجودہ دور کی چھپکلیوں کی طرح اپنے جسم کو زمین سے اوپر اٹھائے رکھتا تھا۔

قدموں کے یہ نشانات پولینڈ کے جنوب مشرقی لائسوگوری علاقے میں موجود ہولی کراس نامی پہاڑی سلسلے میں ایک کھدائی کے مقام سے ملے ،جو کہ ایک چٹان میں کئی میٹر گہرائی میں تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ نشانات اب تک کسی چارپائے کے ملنے والے قدیم ترین نشانات سے بہت پہلے کے ہیں۔ اس کے علاوہ جس مقام سے یہ نشانات ملے ہیں، وہ بھی اس طرح کی زندگی کے لئے درکار ماحول کے حساب سے حیران کن ہے۔ ان ماہرین کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مچھلی سے چارپائے کی طرف ارتقا کا عمل دریاؤں یا جھیلوں کے کنارے یا سمندری ساحلوں کے قریب ہوا ہوگا۔

Fisch Inventur im Sea Life

ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتداء سمندروں سے ہوئی

لیکن جہاں سے یہ نشانات ملے ہیں، وہاں اس طرح کے ماحول کے بہت ہی کم امکانات ہیں، بلکہ یہ ایسی جگہ ہے، جہاں سبزی خور جانوروں کی خوراک بھی موجود نہیں ہوگی۔

محقق پروفیسر نارکی وِکز کے مطابق قدموں کے یہ نشانات دراصل سال 2004 ء میں دریافت کئے گئے تھے مگر شروع میں انہیں ڈائنو سارس کے قدموں کے نشان قرار دیا گیا جو کہ دراصل ان جانوروں سے کئی ملین سال بعد زمین پر موجود تھے۔ یوں 2007ء تک ان نشانات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ تاہم بعد ازاں ماریک نارکی وِکز نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ان نشانات کا بہت ہی طاقتور خوردبین سے جائزہ لیا اور یوں یہ راز افشا ہوا کہ یہ نشانات 395ملین سال قبل وجود میں آئے تھے۔

ان میں سے بعض نشانات اس حد تک واضح ہیں کہ اُن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی مچھلی کے فِنز یعنی پروں کے نشانات نہیں ہوسکتے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت لمبے عرصے سے قائم اُس مفروضے کے برعکس ہے کہ مچھلیوں سے زمین پر چلنے والے جانوروں میں بدلنے کا ارتقائی عمل صرف دریاؤں یا جھیلوں والے علاقے میں ہی ہوا ہوگا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : امجد علی