1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’’مچھر ہمیں سونگھ کر کاٹتے ہیں‘‘

امریکی محققین نے مچھروں کے چند ایسے ہتھیاروں کا پتہ لگایا ہے جن کے ذریعے وہ سونگھ کر اپنے شکار یعنی انسان تک پہنچتے ہیں۔

default

ان ماہرین کے مطابق اس دریافت سے مچھروں کو ہلاک کرنے یا ان سے بچنے کے نئے اور زیادہ مؤثر طریقے تلاش کئے جاسکیں گے۔

ان محققین نے مچھروں کی انوفیلیس گیمبیائے نامی ایک قسم میں ایسے 50 مختلف جین تلاش کئے ہیں، جن کے ذریعے وہ "لذیذ انسانوں" کو سونگھ کر تلاش کرتے ہیں۔ ان محققین نے ان جینز کے انفرادی کردار کو بھی واضح کیا ہے کہ کیسے ان کے ذریعے مچھر مخصوص انسانی بو کا پتہ لگاتے ہیں، جو مچھروں کے لئے کشش کا باعث ہوتی ہے۔

Stechmücke Malaria

مچھر مخصوص انسانی بو کا پتہ لگاتے ہیں

خیال ظاہرکیا جارہا ہے کہ سائنسی جریدے نیچر میں چھپنے والی امریکی ماہرین کی اس تحقیق کے ذریعے مچھروں کو خود سے دور رکھنے کے لئے نئی مؤثر مصنوعات تیار کی جاسکیں گی۔ اس تحقیق کے مطابق ہر جین ایک مخصوص نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جو مذکورہ صورت میں انسانی خوشبو سونگھنے سے متعلق مخصوص نظام یا مالیکیولر بناوٹ ہے۔

امریکی شہر نیو ہیون کی ییل Yale یونیورسٹی کے پروفیسر جان کارلسن نے دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر تجرباتی طور پر ان 50مخصوص جینز کو ایک ایک کرکے پھلوں پر پلنے والی مکھی یعنی فروٹ فلائی کی قسم ڈروسوفیلا Drosophila کے اعصابی سیل میں داخل کیا۔ چونکہ فروٹ فلائی انسانوں کو سونگھنے کی کوشش نہیں کرتی لہذا ان محققین کا مفروضہ تھا کہ اگر مچھروں کے جین داخل کرنے کے بعد یہ مکھی انسانی بو سے متاثر ہوکر اس طرف لپکتی ہے تو یہ اُس خاص جین کی بدولت ہوگا اور ایسی صورت میں وہی مخصوص جین ہی دراصل مچھروں کو خون چوسنے کے لئے انسانی بو سونگھ کر ان تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔

BdT Mückenplage Zunahme der bissigen Insekten erwartet

اس تحقیق سے مچھروں کو ہلاک کرنے یا ان سے بچنے کے نئے طریقے دریافت ہوں گے

کارلسن اور ان کی ٹیم کے مطابق ان کے تحقیقی نتائج دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک بیماری ملیریا پر قابو پانے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس تحقیق کی روشنی میں مچھروں کو متوجہ کرنے یا انہیں دور بھگانے والے کیمیائی اجزاء کا تعین کیا جاسکتا ہے اور پھر ان کے استعمال سے ان مچھروں کو ٹریپ کرکے ہلاک یا پھر ان کو خود سے دور رکھا جاسکتا ہے۔

ملیریا بخار ایک مخصوص پیراسائٹ یا طفیلی بیکٹیریا کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جو کہ انسانی خون کی تلاش میں سرگرم مادہ مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق ملیریا کی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔ ملیریا کی وجہ سے زیادہ تر ہلاکتیں افریقہ اور ایشیا میں ہوتی ہیں۔

ملیریا کے علاوہ مچھر کئی دیگر طرح کی بیماریوں کے پھیلاؤ کی وجہ بھی بنتے ہیں جن میں ڈینگی بخار، زرد بخار یعنی Yellow Feverکے علاوہ کئی طرح کے وائرس کے پھیلاؤ بھی شامل ہے۔ ان میں انسانی ذہن میں سوزش یعنی اینسیفالائٹس Encephalitis کا باعث بننے والا وائرس بھی شامل ہے۔ یہ سوزش اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں چھپنے والی دو دیگر تحقیقوں میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ایک مخصوص پروٹین کو جسے پلازمیپسِن پانچ Plasmepsin V کا نام دیا گیا ہے، دریافت کیا ہے۔ ملیریا وائرس اس پروٹین کو انسانی خون کے سُرخ خَلیوں میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان محققین کے مطابق اس مخصوص پروٹین پر قابو پانے والی ادویات ملیریا کے علاج میں انتہائی مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت : عاطف توقیر