1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مٹ رومنی نے جان میکین کے لئے راستہ آسان بنادیا

رواں برس نومبر میں امریکہ میں حتمی صدارتی انتخابات سے قبل رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار جان میکین ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آرہے ہیں جبکہ ان کی جماعت کے مٹ رومنی کے فیصلے نے اس رپبلکن سینیٹر کے لئے راستہ مزید آسان بنادیا ہے۔

default

رپبلکن‘ مِٹ رومنی‘ امریکی صدارتی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں‘ اور اُنہوں نے اَب اپنی ہی جماعت کے مضبوط صدارتی امیدوار‘ جان میکین کے لئے اب راستہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔

گُذشتہ سپر ٹیوزڈے کو اکیس امریکی ریاستوں کی پرائمریز میں سے مِٹ رومنی کو چودہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا‘ جبکہ اس کے برعکس جان میکین کو یکے بعد دیگرے فتوحات حاصل ہوئیں‘ جس کی بدولت‘ اُن کی پوزیشن اب مزید مستحکم ہوگئی ہے۔

رومنی نے دوڑ سے باہر ہوجانے کا فیصلہ سناتے ہوئے اپنی جماعت کے عہدےداروں سے کہا کہ َاب وقت آگیا ہے کہ رپبلکنز‘ رواں برس نومبر میں ہونے والے حتمی صدارتی انتخابات پر پوری طرح سے اپنی توجہ مرکوز کریں۔رومنی نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے صدارتی دوڑ سے باہر ہوجانا چاہیے‘ اپنی جماعت کی خاطر اور اپنے ملک کے لئے۔جب انہوں نے اپنے حامیوں کے سامنے یہ الفاظ بیان کئے تو اُن کے بہت سے حیرت زدہ مداحوں نے بلند آوازوں میں‘ نہیں نہیں‘ کہا۔

دوسری جانب‘ ARIZONA سے سینیٹر ‘ جان میکین نے اپنے کارکنان سے مخاطب ہوکر واشنگٹن میں کہا کہ ان پر رپبلکن جماعت کو متحد کرنے اور مزید مضبوط بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی جماعت حتمی انتخابات کے لئے انہیں ہی صدارتی امیدوار نامزد کرے گی۔میکین نے مزید کہا کہ اپنی جماعت کے قدامت پسند کارکنوں کی بھرپور حمایت کے بغیر‘ اُن کے لئے‘ ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں‘ براک اوبامہ اور ہلری کلنٹن کو شکست دینا ہرگز آسان نہیں ہوگا۔

اگرچہ ایک اور رپبلکن امیدوار‘ مائک ہکہ بی نے سپر ٹیوزڈے کو پانچ ریاستوں میں کامیابی حاصل کی تاہم جان میک کین نے درکار 1081ڈیلیگیٹس میں سے 700کی حمایت حاصل کر رکھی ہے۔71سالہ میکین ویتنام جنگ کے دوران جنگی قیدی بنے تھے اور اب وہ اپنی جماعت کی طرف سے مضبوط صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔

دریں اثناءڈیموکریٹ سینیٹر براک اوبامہ نے اپنی حریف ہلری کلنٹن کے ساتھ چار مارچ سے قبل دو مزید مباحثوں میں حصہ لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اس سلسلے میں پہلا مباحثہ 26 فروری کو ہونا طے ہے جبکہ دوسرے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوپائی ہے۔