مٹ رومنی باضابطہ طور پر صدراتی امیدوار چن لیے گئے | حالات حاضرہ | DW | 29.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مٹ رومنی باضابطہ طور پر صدراتی امیدوار چن لیے گئے

رپبلکن پارٹی نے مٹ رومنی کو صدراتی انتخابات کے لیے باضابطہ طور پر اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ وہ چھ نومبر کے صدارتی انتخابات میں صدر باراک اوباما کے مد مقابل ہوں گے۔

عوامی جائزوں کے مطابق رومنی اوراوباما کے مابین سخت مقابلے کی توقع ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں منعقد کیے گئے رپبلکن پارٹی کے کنوینشن کے دوران منگل کو صدارتی امیدوار کے لیے باقاعدہ طور پر مٹ رومنی کا انتخاب کیا گیا۔یہ فیصلہ بھی ہو گیا کہ پال رائن مٹ رومنی کے نائب ہوں گے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے عوامی جائزوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ رپبلکن صدراتی امیدوارمٹ رومنی اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر باراک اوباما کے مابین مقابلہ بہت سخت رہے گا۔ اندازوں کے مطابق اگر اوباما کو رومنی پر کوئی برتری حاصل ہے بھی تو وہ کچھ زیادہ نہیں۔

امریکا میں سمندری طوفان کے باعث ایک دن کی تاخیر سے شروع ہونے والے اس کنوینشن میں امریکا کی تمام ریاستوں کے رپبلکن مندوبین نےشرکت کی اور میسا چوسٹس کے65 سالہ سابق گورنر کے حق میں زبانی ووٹ دیا۔اس موقع پر امریکی صدر باراک اوباما کی اقتصادی پالیسیوں کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ مندوبین کے مطابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ ملک میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں۔

Mitt Romney

مِٹ رومنی

ایوان نمائندگان کے رپبلکن اسپیکر جان بوہنر نے کہا: ’’ہم بہتر کام کر سکتے ہیں۔ہم موجودہ حکومت سے بہت بہتر کام کر سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے امریکی عوام کو نیا صدر منتخب کرنا ہوگا۔

یہ امر اہم ہے کہ رپبلکن پارٹی امریکی صدر باراک اوباما پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ ملک میں چھوٹے کاروبار کرنے والے لوگوں کے ساتھ حریفانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں۔ رپبلکن سیاستدانوں کے بقول ایسے کاروباری لوگوں پر زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے اور ان کے لیے سخت ریگولیشنز ہیں۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی سیاستدان کیتھی مک مورس کے بقول ، ’’امریکی صدر نہیں جانتے لیکن میں جانتی ہوں کہ ملک کی اقتصادی ترقی کا بنیادی انجن چھوٹے کاروباری لوگ ہیں نہ کہ حکومت۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی حالت اسی وقت بہتر ہو گی جب ایسے کاروباری لوگوں کو مراعات دی جائیں گی اور انہیں کام کرنے کا موقع ملے گا۔

ab / ng (dpa)