1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مٹی کے بغیر سبزیاں اگانے کا طریقہ

دنیا کے کئی ممالک کی طرح نیویارک میں بھی اربن فارمنگ یا شہروں میں سبزیاں اور سلاد اگانے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سبزیاں صرف پانی اور اس میں شامل معدنیات اور اجزاء کے ذریعے اگائی جاتی ہیں۔

نیویارک کے دس کاروباری نوجوان اپنی ان کوششوں میں مصروف ہیں کس طرح مٹی کے بغیر سبزیاں تیزی  سے اگائی جا سکتی ہیں۔ بروکلین کار پارک کے علاقے میں ’ہاٹ ہاؤس‘ کنٹینر نما فارمز میں مقامی لوگوں کے لیے مقامی سطح پر سلاد وغیرہ اگایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد صنعتی سطح پر تیار کردہ غذا کا مقابلہ کرنا ہے، جسے ہزاروں میل کے فاصلے سے امپورٹ کرتے ہوئے دنیا کے مختلف شہروں اور علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

مقامی سطح پر سبزیاں اگانے کا رواج اس وجہ سے بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ لوگ اپنی غذا کے بارے میں فکرمند ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے غذا کون تیار کر رہا ہے؟ اس طرح سبزیاں اگانے کا رواج امریکا میں تو نیا ہے لیکن یورپ کے کئی حصوں، خاص طور پر ہالینڈ میں اس طریقہ کار کا استعمال ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے۔

اس طریقہ کارکے ذریعے سبزیوں کو ایک مکمل مصنوعی اور بند ماحول میں رکھا جاتا ہے اور اس ماحول کو خود کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سبزیاں اگانے کے لیے ہائیڈروپونیک نامی سسٹم استعمال کیا جاتا ہے، جس کے تحت جڑوں کو معدنیات اور غذائی اجزاء کے ساتھ ملا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یہ سبزیاں ابھی مارکیٹ میں دستیاب سبزیوں کی نسبت مہنگی ہیں۔ اس حوالے سے کورنیل یونیورسٹی میں شہری کاشتکاری کی تعلیم حاصل کرنے والی  ایک گریجویٹ طالب علم ویلی گوڈمین کا کہنا تھا، ’’ اس کا مستقبل اچھا ہے۔ امریکا میں پڑھے لکھے اور دولت مند لوگوں کی کمی نہیں ہے اور یہ لوگ مقامی سبزیوں کے لیے اچھے پیسے دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کیس میں سلاد کا ایک بالکل تازہ پیکٹ صرف سات ڈالر میں آپ کے گھر کے دروازے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘

نیویارک میں صرف یہ ہی نہیں بلکہ بلندو بالا عمارتوں کی چھتوں پر سبزیاں اگانے کا طریقہ بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب کئی تجزیہ کار فارمنگ کے اس طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مرضی کے مطابق ’ان ڈور فارمنگ‘ کے ذریعے اسٹرابیری وغیرہ اگانے کا معاملہ ہوا تو روایتی کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ابھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں زمین پر کاشتکاری کرنے کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔