1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ميں يہ سارا درد سہہ لوں گی

پاکستان کي سابق وزير اعظم بينظير بھٹو کي بيٹی بختاور بھٹو نے اپني والدہ کي موت کے بارے ميں ايک ريپ گانا کمپوز کياہے جسے انھوں نے خود گايا بھي ہے۔

default

بختاور بھٹو، بے نظیر بھٹو کی بڑی بیٹی ہیں۔

بختاور بھٹوکے اس ريپ گانےکو غور سے سنا جائے تو پتہ چلتا ھے کہ اس ريپ گانے کے شعر درد اور غم سے بھرے ہوئے ہيں. اس ريپ گانے ميں بختاور بھٹو اپنےشعروں میں کہتي ہيں کہ پہلے ان کے نانا اور دو ماموؤں کا قتل ہوا اور پھر27 دسمبر سال2007 ان کي والدہ کو بھي قتل کردیا گيا.

Bildgalerie Pakistan Benazir Bhutto 1998 in Karachi

بے نظیر بھٹو کی یہ تصویر ستمبر سن 1998میں لانڈھی جیل کے باہر لی گئی تھی۔ اس تصویر میں بختاور اور بلاول بھی نظر آرہے ہیں۔

اپني مقتول والدہ کو مخاطب کرتے ہوئے بختاور اس گانے ميں کہتی ہيں کہ امي اگر آپ مجھے سن رہی ہيں تو ميں آپ کو وہ کچھ کہنا چاہوں گی جو ميں پہلے کبھی نہيں کہہ پائی. اس گانے کا نام ہے I'll take the pain۔

درد ہے کیا؟ گانے ميں تکراری طور پر جوجملہ استعمال ہواہے اسکےاردو معنی ہيں، ميں يہ سارا درد سہہ لوں گی. اوراس گانے کا نام بھی يہی رکھا گيا ہے. اس شعر ميں درد کے لفظ کا کيا مقصد ہوسکتاہے؟ ہوسکتاہے کہ بختاور والدہ سے اپنی جدائی کے درد کي بات کررہي ہوں او يہ بھی ہوسکتاہے کہ درد سے وہ درد مطلوب ہو جو قتل ہوتے وقت محترمہ بينظير بھٹو کو محسوس ہوا ہوگا. شايد اس گانے کے ذريعے بختاور نے کوشش کي ہے کہ وہ اپنی والدہ کي موت کے درد اور غم کو کم کرسکیں.

عوامی ردعمل: پاکستان ميں بختاور بھٹو کے اس ريپ گانے کے حوالے سے ملا جلا رد عمل ديکہنے ميں آيا ہے. اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ايک نوجوان طالب علم اس ريپ گانے کے بارے ميں يوں کہتے ہيں: ’’اپنی والدہ کی برسی کے موقع پر گانا گانے کا ان کا اپنا فيصلہ ہے. يہ ان کيلئے اچھي بات ہوسکتی ہے.‘‘

Pakistan Benazir Bhutto Anhänger in Lahore Trauer Kerze

گانے ميں تکراري طور پر جوجملہ استعمال ہواہے اسکےاردو معنی ہيں، ميں يہ سارا درد سہہ لوں گي.

ليکن کچھ پاکستانيوں کے خيال ميں بختاور بھٹو کے سوگ منانے کا يہ طريقہ صحيح نہيں. اسلام آباد کے رہنے والے ايک سٹوڈنٹ اس بارے ميں کہتے ہيں: ’’ايک طرف تو بختاور اپني والدہ کا سوگ منارہی ہيں، اور دوسری طرف يہ گانا گارہی ہيں. يہ بات ہمارے دين کيساتھ مطابقت نہيں رکھتی. سالگرہ کے موقع پر گانا گايا جائے تو اور بات ہے. لیکن یہ بہتر ہوتا اگروہ اپنی والدہ کی برسی پر تلاوت قرآن پاک کرتيں.‘‘

برسی پر ماتمی گانا: لوگوں کا خيال ہے کہ مسلمان برسي کے موقع پر گانا گانے کے بارے ميں سوچ بھي نہيں سکتے. اگرچہ بختاور بھٹو کا يہ ريپ گانا کئي مرتبہ پاکستان کے حکومتي ٹي وي سے نشر کياجاچکا ہے ليکن پھر بھي بہت سے لوگ اس گانے کے بارے ميں جانتے بھي نہيں. اسلام آباد کے ایک طالب علم اس بارے ميں کہتے ہيں:’’ايک اخبار ميں ميري والدہ نے اس بارے ميں پڑھا تھا. کہاجاتاہے کہ يہ ريپ گانا ايک امريکن سنگر پي ڈيڈي کي موسيقي سے متاثرہوکر بناياگياہے. ليکن معاف کيجئے گا ميں نے يہ گانا خود نہيں سنا.‘‘

Bildgalerie Pakistan Benazir Bhutto in Rawalpindi letzter Auftritt

شايد اس گانے کے ذريعے بختاور نے کوشش کي ہے کہ وہ اپني والدہ کي موت کے درد اور غم کو کم کرسکیں۔

بختاور بھٹو کا مذکورہ گانا انٹرنٹ کے مشہور ويڈيو ویب سائیٹ يو ٹيوب پر بھي دستياب ہے.گانے کے اس ويڈيو ميں بينظير بھٹو کے جان بحق ہونے سے چند لمحے پہلے کی ايسی تصاوير دکھائی گئ ہيں، جن ميں وہ مسکرارہی ہيں. اوراس کے علاوہ محترمہ بيظير بھٹو کے مرنے کے بعد کی تصويريں دکھائی گئی ہيں جن ميں لوگ ماتم کرتے دکھائی ديتے ہيں.

بیٹی کا ماں کو خراج عقیدت : برطانوي اخبار انڈيپنڈنٹ نے بختاور کے گانے کے بارے ميں لکھا ہے کہ گرچہ بختاوربھٹو کا يہ گانا اتنا پروفيشنل تو نہيں کہ اسے گريمی ايوارڈ کيلئے نامزد کيا جاسکے ليکن يہ گانا بختاور بھٹو کی تخليقي صلاحيت کا ثبوت ضرور ہے. پاکستاني حکومت کی ايک نمائندہ خاتون نے کہاہے کہ بختاور بھٹو نہيں چاہتيں کہ وہ پيشاورانہ طور پر موسيقی کيساتھ تعلق جوڑ ليں.

بختاور بھٹو کے ريپ گانے پر ملے جلے ردعمل کے باوجود اس حقيقت سے کوئي انکار نہيں کرسکتا کہ ايک سترہ سالہ لڑکي کيلئے اپنی والدہ سے اسطرح جدا ہونا کوئی آسان امرنہيں۔