1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ميانمار پر پابندياں روہنگيا مہاجرين کے بحران کا حل نہيں‘

امريکی وزير خارجہ ريکس ٹلرسن نے ميانمار کے دورے پر کہا ہے کہ وہ اس رياست کے خلاف فی الحال پابنديوں کی کوشش نہيں کريں گے تاہم وہ روہنگيا مسلم اقليت کے خلاف تشدد کی رپورٹوں کی آزاد تحقيقات چاہتے ہيں۔

ريکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ ميانمار کے خلاف وسيع تر اقتصادی پابندياں، فی الحال وقت کی ضرورت نہيں۔ امريکی وزير خارجہ نے يہ بيان آج بروز بدھ نيپيداو ميں اپنے ايک روزہ دورے پر ملکی رہنما آنگ سان سوچی اور فوجی سربراہ سے ملاقات کے بعد ديا۔ مشترکہ پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزيد کہنا تھا کہ امريکا، ميانمار کو ترقی کرتے ہوئے ديکھنا چاہتا ہے اور اس ضمن ميں پابندياں مسئلے کا حل نہيں۔

ميانمار کی راکھين رياست ميں عسکريت پسندوں کے خلاف ملکی فوج کا آپريشن رواں برس اگست سے جاری ہے۔ اس دوران تقريباً چھ لاکھ روہنگيا مسلمان راکھين سے نقل مکانی کرتے ہوئے پناہ کے ليے بنگلہ ديش ہجرت کر چکے ہيں۔ يہ مہاجرين ميانمار کی فوج پر تشدد کے الزامات عائد کرتے ہيں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق محکمے کے سربراہ بھی ميانمار ميں جاری اقدامات کو نسل کشی کی ایک کتابی مثال قرار دے چکے ہيں۔ علاوہ ازيں انسانی حقوق کی بيشتر تنظيميں بھی ميانمار پر اس سلسلے ميں تنقيد کرتی آئی ہيں۔

ميانمار ميں مختصر قيام کے دوران امريکی وزير خارجہ ريکس ٹلرسن نے کہا کہ وہ ميانمار کی فوج اور ديگر عناصر کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگين خلاف ورزيوں کی مصدقہ اطلاعات پر گہری تشويش کا شکار بھی ہيں۔انہوں نے کہا، ’’وہاں کے سامنے آنے والے مناظر ہولناک ہيں۔‘‘

اس کے برعکس سوچی کی انتظاميہ نے ايسی تمام رپورٹوں کو مسترد کر ديا ہے۔ نہ صرف يہ بلکہ سوچی آزاد تحقيقات کے لیے اقوام متحدہ کے تفتيش کاروں کو راکھين تک رسائی دینے سے بھی انکار کر چکی ہيں۔ يہ امر اہم ہے کہ نوبل امن انعام يافتہ اس سلسلے ميں کافی تنقيد کا شکار رہی ہيں۔ بدھ کو انہوں نے اپنے موقف اور رويے کی وضاحت ديتے ہوئے کہا، ’’ميں اس معاملے پر خاموش نہيں ہوں، ميں جو کہتی ہوں وہ لوگوں کے ليے اتنا دلچسپ نہيں۔‘‘ سوچی کے بقول وہ ايسے بيانات دينے سے گريز کرتی ہيں، جو نسلی تشدد کا سبب بنيں۔

دريں اثناء امريکی وزير خارجہ کی آمد کے موقع پر ميانمار کی فوج کے کمانڈر ان چيف نے راکھين ميں فوج کے آپريشن پر داخلی سطح پر مرتب کردہ ايک رپورٹ بھی جاری کی، جس کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہيں ہیں کہ فوج نے عام شہریوں کو قتل کيا، آبروريزی کی یا ان کے خلاف بے انتہا طاقت استعمال کیا۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ يہ ايک ايسی فوج کی جانب سے معاملات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، جو نسلی بنيادوں پر تشدد کی تاريخ رکھتی ہے۔